گوادر:پاکستان اور فوج کے حامی حاصل کلمتی اپنے تین ساتھیوں سمیت گوادر سے اغواء ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق انھیں منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو طاہری پلازہ کے سامنے سے اس وقت نامعلوم افراد نے اغواء کیا جب وہ گوادر سول سوسائٹی کے ڈپٹی کنوینر چیئرمین محمد جان کے ہمراہ تھے۔ انھیں چیئرمین محمد جان اور ایک دوسرے شخص کے ساتھ جس کا تاحال نام معلوم نہیں ہوسکا ہے نامعلوم افراد نے اغواء کیا۔
گوادر حق دو تحریک کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے فیس بک پر اپنے اکاؤنٹ میں ان کی گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گوادر کے نوجوان سیاسی کارکن محمد جان اور معتبر شخصیت حاصل کلمتی کے اغواء کی شدید مزمت کرتاہوں ،فوری طور پر بازیاب کیے جائیں۔
اس بارے میں نام نہاد ’ترقی دو تحریک گوادر‘ نامی ایک سرکاری تنظیم نے بھی بیان جاری کیا ہے اور حاصل کو نام نہاد ’ترقی دو تحریک گوادر ‘ کا رہنماء ظاہر کیا ہے۔واضح رہے یہ نام نہاد تنظیم گوادر حق دو تحریک کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستانی فوج کی ایما پر پاکستانی فوج کے حامیوں نے بنائی ہے جس میں باپ پارٹی کے اراکین شامل ہیں۔ حاصل کلمتی ماضی میں نیشنل پارٹی میں شامل رہے ہیں جبکہ اب باپ پارٹی کا سپورٹ کرتے ہیں۔
نام نہاد ترقی دو تحریک گوادر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی دو تحریک کے رہنما اور گوادر سول سوسائٹی کے ڈپٹی کنوینر چیرمین محمد جان اور مشہور رئیل اسٹیٹ ڈیلر اور ترقی دوتحریک کے رہنما حاصل کلمتی ساتھیوں کے ساتھ کل رات سے لاپتہ ہیں جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مذکورہ تنظیم کے بیان کے مطابق اس طرح سیاسی لوگوں کو اغوا کرنا گوادر کے حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی سازش ہیں۔اگر اس طرح اہم سیاسی شخصیات کو اغواء کیا جائے گا تو گوادر اور سی پیک کیسے چل سکتا ہے۔سیکورٹی فورسز اور تمام سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اتنے سے چھوٹے شہر میں سیاسی لوگوں کا اغوا کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔
انھوں نے الٹی میٹم دیا کہ اگر تین دن کے اندر اگر ان کو اپنے لواحقین کے حوالے نہیں کیا تو تو ہم پورے بلوچستان اور بالخصوص گوادر میں شدید احتجاج کریں گے۔
’حاصل کلمتی ایک متازعہ شخصیت‘
حاصل کلمتی حالیہ دنوں میں کئی تنازعات کی زد میں آئے ہیں۔گذشتہ سال 21 نومبر کو تحصیل جمیڑی کے گاؤں پانوان میں واقع ان کے گھر پر دستی بم کا حملہ کیا گیا تھا جس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔حاصل کلمتی پر عوامی سطح پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ حاصل کلمتی پاکستان کی ملٹری انٹلی جنس کے لیے کام کرتے ہیں۔
سال 2020 کو مغربی بلوچستان کے ضلع دشتیاری کے مرکزی شہر نگور سے ایک نوجوان کو جبری لاپتہ کیا گیا تھا جس کی گمشدگی کا ذمہ دار حاصل کلمتی اور برکت کلمتی نامی شخص کو قرار دیا گیا تھا اس واقعے کے بعد ایرانی خفیہ اداروں نے مغربی بلوچستان کے شہری برکت کو حراست میں لیا ۔برکت مہینوں تک زیر حراست رہنے کے بعد رہا ہوئے۔
حاصل کلمتی اس عرصے میں مغربی بلوچستان کے ضلع دشتیاری کے ساحلی گاؤں بریس میں رہائش پذیر تھے لیکن برکت کی گرفتاری اور الزام کے سامنے آنے کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرکے کراچی چلے گئے۔پانوان میں ذرائع نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد حاصل کی سرگرمیاں محدود ہوگئی تھیں۔
رواں سال 25 جون کو پانوان کے رہائشی نوربخش کلمتی ولد حاجی ابراہیم کی گاڑی پر بم دھماکا ہوا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اس حملے کے بعد پاکستانی نمبر کو استعمال کرتے ہوئے واٹساپ پر ایک شخص نے خود کو ’کامریڈ گل بلوچ‘ بتا کر نوربخش سے بھتہ دینے کا مطالبہ کیا ، بھتہ کی عدم ادائیگی کی صورتان پر مزید حملوں کی دھمکی دی گئی۔ جس پر عمل کرتے ہوئے ان کے راستے پر ایک اور دھماکا خیز مواد رکھا گیا۔
راستے میں مشکوک چیز کو دیکھتے ہوئے ان کے رشتہ دار 37 سالہ ’صادق کلمتی‘ نے پتھروں کو ہٹایا جس سے دھماکا خیز مواد پھٹ گیا اور صادق شدید زخمی ہوگئے۔ صادق تاحال کراچی کے ایک ہسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں ہیں۔
اس واقعے کے بعد بھی مقامی سطح پر حاصل کلمتی کا نام لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر ان حملوں میں بھی حاصل کلمتی کا نام سامنے آیا۔ علاوہ ازیں حاصل کلمتی کو گوادر میں زمینوں کی خریدوفروخت میں کروڑوں کے فڑاد میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے لیکن ان تمام واقعات کے باوجود ان پر تاحال کسی بھی سطح کی عدالت میں کوئی مقدمہ قائم نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ حاصل کے پاکستانی فوج کے اعلی افسران سے قریبی تعلقات ہیں اور اپنے آبائی علاقے میں ان تمام واقعات میں نام سامنے آنے پر اسلام آباد میں منتقل ہوگئے ہیں۔
گوادر سے ہمارے رپورٹر کے مطابق عیاش طبع حاصل کلمتی ایک ایسے شخص ہیں جو علاقے میں فراڈ کا بے تاج بادشاہ سمجھے جاتے ہیں۔جس نے جعلی کھتونیوں اور دیگر طریقے سے کروڑوں پیسے کمائے ، کئی لوگوں کو دھوکے میں رکھا اور ساتھ ہی ایک نوجوان کی جبری گمشدگی میں ملوث رہے ہیں ایسے میں قطعی طور پر اس کے اغوا میں کسی ایک طرف انگلی اٹھانا مشکل ہے۔
رپورٹر کے مطابق کروڑوں کے فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث حاصل کلمتی ناخواندہ ہونے کے باوجود علاقے میں سیاسی طور پر بھی متحرک رہتے ہیں۔وہ کھلے دل سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔مختلف سماجی ، فنی اور ادبی تنظیموں کو بھاری رقوم عطیہ کرتے ہیں اور اپنے یار باشی میں لاکھوں لٹاتے ہیں جس سے ان کا حلقہ احباب کافی وسیع ہے۔
