جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنے کو اکیس دن مکمل ہو گئے

شال ( اسٹاف رپورٹر سے )جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا ریڈ زون میں دھرنے کو اکیس دن مکمل ہو گئے -
دھرنے میں بدھ کے روز بنام نہاد بلوچستان کے وزیر زمرک اچکزئی اور ممبر اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے آکر اظہارِ یکجہتی کی اور لواحقین نے ان کو اپنے لاپتہ افراد کی لسٹ بھی فراہم کر دی۔ انہوں نے لواحقین کو یقین دہانی کی کہ وہ لسٹ اور مطالبات کو صوبائی حکومت تک پیش کریں گے اور جلد از جلد ان سے رجوع کریں گے۔ دھرنے میں بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے لواحقین کی کثیر تعداد موجود ہے جو انصاف کے منتظر ہیں، جن کے سادہ سے مطالبات ہیں کہ ان کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انکے لاپتہ پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں تسلی دی جائے - واضح رہے کہ احتجاجی دھرنے کو آج اکیس دن مکمل ہوئے ہیں لیکن اب تک انکے مطالبات کی منظوری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے دھرنے میں بیٹھی لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ پچھلے اکیس دنوں سے دھرنے پہ بیٹھی ہوئی ہیں، پچھلے دو دنوں میں موبائل نیٹ ورک اور سڑکیں بند رہیں لیکن ان کا احتجاجی دھرنا بدستور جاری رہا۔ انھوں نے کہاکہ کسی بھی

Post a Comment

Previous Post Next Post