کوئٹہ ،نال گریشہ سے سیاسی سماجی کارکنان نے وی بی ایم پی کی کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی

شال ( اسٹاف رپورٹر سے ) بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4734 دن ہو گئے ۔ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نال ،گریشہ سے سیاسی و سماجی کارکن خدابخش بلوچ ،وہاب بلوچ اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی . وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ زندہ قوموں کو ہر دور اپنی روایات کے تقدس اور اپنے وجود کے بقاکے لئے قبضہ گیر اور بدی کے قوتوں کے خلاف پرامن جدوجہد کرنا پڑتا ہے، ہزاروں بلوچ فرزند جبری لاپتہ ہیں، بلوچ کے منزل کا تعین اور مستقبل کو درخشاں کرنے میں بلوچ فرزند جوانمردی جرات اور استقلال سے اپنا فرض نبھارہے ہیں، پرامن جدوجہد کے موجودہ مرحلے میں سپوتوں کی ہمت بہادری بہتر حکمت عملی اور نظریاتی پختگی نے دشمن کو ایک کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے کہ وہ درندگی حیوانیت ننگی جارحیت اور فرغونیت پر اترآئے ہیں. انھوں نے کہاکہ روز معصوم اور ہونہار بلوچ فرزندوں کو جبری لاپتہ کرکے انکے مسخ شدہ لاشوں کو وایرانوں میں پھینک کر بلوچ کے دلوں میں بھڑکنے والی آگ کی شدت کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہاہے، مگر بلوچ کو ایسے مذموم اقدامات سے مرعوب نہیں کر سکتا. ماماقدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ فرزندوں پر سفاکیت ہی بین الاقوامی برادری اس بات کا ادراک کر چکی ہے کہ بلوچ حق صداقت پر مبنی اور بین الاقوامی اقدار اور اصولوں کے مطابق اپنی پیاروں کی پرامن جدوجہد کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ انھیں کامیوں کے روز بہ روز بڑھتی ہوئی کامیابی کو روکنے کے لیے ریاست اپنی تمام تر فوجی قوت کیساتھ ساتھ زرخرید ایجنٹوں غداروں موقع پرستوں اور دوست نما دشمنوں کو بلوچ پرامن جدوجہد کو کچلنے کے لئے بے دریغ استعمال کررہا ہے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے باطل کی مقدر میں بدنامی ہے اور فتح کامیابی اور کامرانی ہمیشہ سچ کے قدم چھوم کررہے گا آج بلوچ فرزند بے انتہا تکالیف اور زمانے کی سردگرم سے گزر کر قدم قدم پر موت کا سامنا کرکے خوانمری اور استقلال سے بلوچ قوم کو ایک عزت اور وقاربخش کر بین الاقوامی برادری میں اپنے قومی وجود اور پرامن جدوجہد کو برحق قرار دلاکر دنیا کی خاموشی حمایت پانے کامیابی کی ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post