چودہ اگست 1947 نہ صرف بلوچ قوم کے لیے ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ دن عالمی دنیا کے لیے بھی ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس دن ایک ایسی ریاست کی تشکیل ہوئی جس نے نہ صرف آزاد بلوچ ریاست پر برطانوی ایماء پر قبضہ کیا بلکہ خطے اور دنیا میں دہشت گردی کو ایسے پروان چڑھایا کہ یہ خطہ اور دنیا آج تک اس جنگ کے دلدل سے نکلنے میں ناکام رہی ہے۔
جب تک اس ریاست کا وجود ہے، اس خطے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔ دنیا میں امن و آتشی کا مقصد لیے جو طاقتیں عمل کے میدان میں کام کررہی ہیں، ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جب دنیا میں نو آبادیاتی نظام کا عروج ہوا تو برطانیہ سمیت دنیا کی دیگر طاقتوں نے ایشیائی اور افریقی ممالک پر اپنا قبضہ جمانا شروع کیا۔
اس طرح دنیا کے کئی ممالک ان کے زیر تسلط آگئے جن میں بلوچستان اور ہندوہستان بھی شامل تھے۔ اس قبضہ گیریت اور سامراجی نظام کے خلاف بلوچستان اور ہندوستان میں نفرت کی ایک صدا بلند ہوئی۔ سردار محراب خان نے بلوچستان میں اور سبھاش چندر بوس اور دیگر ہندوستانی رہنماؤں نے ہندوستان میں مزاحمت کی بنیاد رکھی۔
یہ سیاسی اور مزاحمتی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ دنیا کے نقشے میں آزاد بلوچستان اور ہندوستان کا نقشہ سامنے آیا۔ لیکن تاریخی جبر دیکھیں کہ ریاست برطانیہ نے ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت ایک طرف بلوچستان کو تقسیم کردیا اور دوسری طرف ہندوستان کو تقسیم کرکے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا 1940 تک کوئی تصور تک نہیں تھا۔
قربانیوں، شہادتوں، اور سیاسی مزاحمت سے ہی ریاستیں قائم ہوتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آج تک دنیا میں ایسی کوئی ریاست نہیں جو بغیر کسی قربانی کے وجود میں آئی ہو۔
اس ریاست کی تشکیل میں نام نہاد کردار ادا کرنے والی جماعت مسلم لیگ کے مقاصد میں آزادی کا ایجنڈا شامل ہی نہیں تھا۔ آزادی کا ایجنڈا اس وقت برطانوی ایماء پر شامل کیا گیا جب برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں احساس ہوا کہ برطانیہ کے لیے ہندوستان سے انخلاء ہی قومی مفاد ہے۔
اس لیے انھوں نے مسلم لیگ کے مقاصد میں آزادی کا ایجنڈا شامل کردیا اور چودہ اگست کو ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان جیسی غیر فطری ریاست تشکیل دیا تاکہ اس خطے میں ان کے مفادات کا تحفظ ہوسکے۔مسلم لیگ وہ جماعت تھی جس نے ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کے بجائے انگریزوں کی چاپلوسی کا کردار ادا کیا۔
آپ کے علم میں ہے کہ غیر فطری ریاست نے وجود میں آنے کے بعد ایک تاریخی حیثیت رکھنے والی سرزمین پر 27 مارچ 1948 کو قبضہ کیا۔ آج تک ریاست پاکستان کا جبر سے بھرپور نظام بلوچ قوم کی سیاسی، معاشی، تعلیمی، ثقافتی، سماجی نظام کو جمود کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔
اپنی ریاستی مشینری کے طاقت کے بل بوتے پر بلوچ قوم کو جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشیں، اجتماعی قبریں، جبری نقل مکانی، جعلی مقابلے کے تحفے دے رہی ہے۔اکیسویں صدی کے اوائل سے بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے۔ پاکستانی دہشتگردی سے بلوچ کا کوئی بھی طبقہ فکر محفوظ نہیں ہے۔
جوانوں، بچے اور عورتوں سے لے کر بوڑھے، کوئی بھی پاکستان کے جبری نظام سے محفوظ نہیں ہے۔چودہ اگست کا دن ہمارے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ جب تک بلوچ وطن کی آزاد حیثیت بحال نہیں کی جاتی، یہ دن بلوچستان کی تاریخ میں سیاہ دن کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔
بحیثیت بلوچ آپ اس دن کو سیاہ دن کی حیثیت سے منائیں اور دنیا کو واضح پیغام دیں کہ پاکستان کے ساتھ بلوچ کا رشتہ آقا اور غلام کا رشتہ ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ کا پاکستان سے تاریخی، یا ثقافتی کوئی رشتہ نہیں ہے۔
بلوچ کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے بلوچ فرزندوں نے اپنے جانوں کی قربانی بلوچستان کی آزادی کے لیے دی ہے۔ اب ہم پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس سیاسی جنگ کو آگے بڑھائیں۔ اس جنگ کا پیغام شہر شہر، قریہ قریہ پھیلائیں کیونکہ اس جنگ میں ہی بحیثیت قوم ہماری بقاء ہے۔
اگر ہم نے اس ذمہ داری سے منہ موڑا تو تاریخ کے صفحات میں ہمارا نام ونشان مٹ جائے گا۔ اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سیاسی و جنگی محاذ میں آزادی کے لیے برسر پیکار تنظیموں کا کس حد تک ساتھ دیں گے کیونکہ اصل طاقت کا سرچشمہ آپ ہیں۔ آپ کی طاقت سے ہی ہم دوبارہ اپنی آزادی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔
