چاغی ( اسٹاف رپورٹرز سے )
چاغی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں سرگرم بی ایس او پجار کے زونل عہدیداروں کو آرمی کیمپ بلا کر بندوق کی نوک پر ان سے بلوچ طلباء تنظیم چھوڑنے کیلئے زبردستی استعفوں پہ دستخط لیے گئے، اور ان کو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے یا تنظیم کے چیئرمین سے رابطہ رکھنے کی پاداش پر سخت دھمکیاں دی گئیں۔
انھیں سختی سے تنبیہ کیا گیا کہ وہ آئندہ چاغی میں ایسی کسی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنیں گے، جس میں وہ لوگوں کو آگہی دے سکیں کہ ریکوڈک ایک بلوچ استحصالی منصوبہ ہے -
جب زرمبش کے نمائندہ نے اس سلسلے میں بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انکی تنظیم کے زونل عہدیداروں کو تنظیم چھوڑنے کیلئے زبردستی اور غیر آئینی طریقہ سے فورسز نے دبا و ڈال کر دستخط لئے ہیں جو قابل مذمت عمل ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے کارکنوں یا انکے کسی فیملی ممبر کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکا زمہ دار وہاں کا ضلعی انتظامیہ ہوگا -
بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پر اپنے ٹویٹس میں اس واقعہ پر تفصیل سے لکھا ہے کہ " ریکوڈک میگا پروجیکٹ نہ صرف بلوچستان کے لوگوں کے استحصال کی وجہ ہے بلکہ بلوچ نسل کشی کی ایک نئی لہر ہے، ہم ان زورآور قوتوں اور نادیدہ قوتوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کے ہم جمہوری اور پرامن سیاست پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں ۔
لیکن اپنے سر زمین اور اپنے مادر ء وطن بلوچستان کی ملکیت اور حاکمیت سے دستبردار کبھی نہیں ہونگے -
انہوں نے لکھا ہے کہ ہم واضح انداز میں بتانا چاہتے ہیں کے ہمارے عہدیداران کے گھروں میں پرچیاں پھینکنے سے نہ ہی ہمارے حوصلے پست ہونگے اور نہ ہی زبردستی کچھ استعفوں سے یہ تحریک کمزور ہوگی، بلکہ اس عمل سے ان قوتوں کے عزائم دنیا کے سامنے واضح ہونگے -
انہوں نے لکھا ہے کہ "اس وطن پہ جان نچھاور کرنے والے اس وطن کے سپوت ہیں اور ہم نے اس بات کی حلف لی ہے کے اس وطن اور اس پر ہونے والے مظالم کے خلاف کھڑے رہیں گے۔
انھوں نے کہاکہ چاغی کے حالیہ واقعات اس بات کی تائید کرتے ہیں کے وہاں نادیدہ قوتیں جو بلوچ وطن کی لوٹ کھسوٹ کے لئے بندوق سمیت اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل پہنچانے کےلئے بلوچستان پہنچے ہیں، ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے دوستوں سے بزور بندوق استعفیٰ لے لئے ہیں وہ انکے کسی کام کا نہیں ہے۔اور یہ عمل ہمارے جرات ، عزم اور حوصلوں کو پست نہیں کرسکتا،
انھوں نے کہاکہ ہم اپنے قومی شناخت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے ، بلکہ اور شدت سے ریکوڈک جیسے بلوچ دشمن پروجیکٹس کی پرزور مخالفت کرینگے ۔
انھوں نے اعلان کیا کہ قومی شناخت پر حملہ آور قوتوں کے خلاف ایک عوامی تحریک کی شروعات آج سے کرنے جارہے ہیں، لیکن ہمارے پرامن اور جمہوری رویوں کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جائے ۔
