مارٹر گولہ میں زخمی خواتین و بچوں کو تحویل میں لینا قابل مذمت ہے ۔ پانک شال ( پ

کوئٹہ ( پ ر) بلوچ نیشنل موومنٹ کی ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ "پانک"نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے زریعے اپنے بیان میں کہا کہ "تمپ میں گذشتہ رات پاکستانی فورسز کی جانب سے آبادی پر اندھا دھند تین مارٹر گولے فائر کئے گئے، جن میں سے ایک موسیٰ ولد جاسم نامی شخص کے گھر پر گرا، جس سے اسکی بیوی اور تیرہ سالہ بیٹی ماھکان سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ شدید زخمی ماں بیٹی سمیت دیگر زخمیوں کو تربت منتقل کیاگیا۔ مگر وہاں انھیں سول ہسپتال بجائے ، علاج بہانے تربت ایف سی کیمپ میں تحويل میں رکھا گیاہے، جو قابل مذمت عمل ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ پانک نے کہاہے کہ سیول آبادی پر پاکستانی فورسز کی طرف سے اس طرح کی کارروائی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے. اس سے پہلے بھی پاکستانی فورسز کی فائرنگ اور گولے فائر کرنے کی وجہ سے کئی معصوم لوگوں کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں، انھوں نے کہاکہ کچھ سال پہلے اسی علاقے میں فورسز کیجانب مارٹر گولے فائر کرنے کی وجہ ایک گولہ آبادی میں گرگئی جہاں شہناز بلوچ نامی خاتون کی شہادت ہوئی۔ پانک نے اپنےجاری بیان میں انسانی حقوق کے عالمی تنظیموں اور کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیکر بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کو میڈیا کے سامنے لانے علاوہ ہر محاذ پر آواز بلند کریں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post