آواران میں ایک گھر پر فورسز نے قبضہ کرکے چوکی بنادی

آواران کے گاوں زیارت ڈن سر میں پاکستانی فورسز نے نذیر احمد نامی شخص کے گھر پر قبضہ کرکے اپنی نئی چوکی قائم کردی ہے
نذیر احمد کے گھروں کو قبضہ کرکے چوکی قائم کردی گئی ۔وہاں اس گاوں کی موبائل نیٹ ورک یوفون کی رینج بھی جام کرکے گھٹادی گئی ہے ۔ باقی علاقوں میں نیٹ ورک برابر کام کر رہی ہے ۔دوسری جانب اطلاع ہے کہ فورسز نے پیراندر کے ندی نالوں کے جنگلات کچھ دنوں کے وقفے بعد پھر جلانا شروع کردیاہے ۔جن میں گزی سھروک،پیراندرلوپ،،زرانکولی،
وادی مشکے کور ،دراج کور وغیرہ شامل ہیں ۔آپ کو بھی علم ہے گذشتہ ماہ جب جنگلات جلائے جانے کا آغاز میجر شبیر نے کیاتھا تو علاقائی لوگوں سول سوسائٹی نے ان کے اس بزدلانہ حرکت کی مذمت کی تھی جس کے بعد وہ مجبورا ایک ہفتہ بعد جنگلا ت جلائے جانے کا سلسلی بند کیاتھا ۔جب طرف سے مذمتوں کا سلسلہ سرد ہوئی تو پھر وہ اپ نے نیچ حرکت پر اتر آئے ۔علاقائی لوگوں کا کہناہے کہ یہاں کے باسی ان جنگلات پر پر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں ۔
انھیں داز کے بتوں سے گھر بناتے ہیں ۔
چولھا جلانے کیلے لکڑیاں بھی یہیں سے لاتے ہیں ۔
ان جنگلات سے ایک طرف ان کا معاشی قتل دوسری جانب چھت چھینا جارہاہے وہاں قدرتی ماحول میں بھی بگاڑ پیدا کر رہے ہیں ۔ کیوں یہاں پانی کا نظام بارانی ہے اور جب بھی بارش ہوتی ہے لوگ اپنے زمینوں میں غلہ ۔جو ۔مکئی، ماش اگاتے ہیں
۔

Post a Comment

Previous Post Next Post