کوئٹہ ( نامہ نگار ) خضدار باغابانہ کے رہائشی حفیضہ قادر اور دیگر اہل خانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جاری کیمپ پہنچ کر جبری لاپتہ قادر بخش کی بازیابی کیلے چیئرمین نصراللہ کی سربراہی میں پریس کانفرنس کی ۔
اہلخانہ نے کہاکہ
آج ہم بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے باغبانہ سے کوئٹہ آکر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس اس لیے کر رہے ہیں تاکہ اپنے والد قادر بخش کی جبری گمشدگی کا معاملہ حکام اور عوام کے سامنے رکھ سکیں اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کر سکیں۔
پریس کانفرنس دوران حفصہ نے کہاکہ میرے والد قادر بخش کو 6 ستمبر 2026 کو آر سی ڈی روڈ، بی سی کیمپ خضدار کے قریب اس وقت سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا، جب وہ باغبانہ سے خضدار کی جانب جا رہے تھے۔ حراست میں لینے کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔
ہم نے متعلقہ تھانے، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے بارہا رابطہ کیا، لیکن نہ ہمیں ان کی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی ان کی خیریت یا موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس صورتحال نے ہمارے پورے خاندان کو شدید ذہنی کرب، اذیت اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک گھر کا فرد جب بغیر کسی اطلاع کے لاپتہ ہو جائے تو اس کے اہلِ خانہ ہر لمحہ اس کی سلامتی کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں اور ہماری معمول کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شہری کو قانون کے مقررہ طریقہ کار کے بغیر حراست میں رکھنا اور اس کے اہلِ خانہ کو اس کی گرفتاری، مقام اور خیریت سے لاعلم رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ اگر میرے والد کے خلاف کوئی الزام یا مقدمہ ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، الزامات سے آگاہ کیا جائے اور انہیں اپنے دفاع اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل حق دیا جائے۔
پریس کانفرنس دوران انھوں نے حکومت، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیاکہ
میرے والد قادر بخش کو فوری طور پر بازیاب کرکے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے۔
اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ان کی حراست کی وجوہات اور موجودہ صورتحال سے اہلِ خانہ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
ان کی جبری گمشدگی کے معاملے کی شفاف اور قانونی طور پر تحقیقات کی جائیں۔
انھوں نے مزید کہاکہ
ہم معزز صحافی حضرات، سیاسی و طلبہ تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ قادر بخش کی باحفاظت بازیابی اور ہمارے خاندان کو اس اذیت اور بے یقینی سے نجات دلانے کے لیے ہماری آواز بنیں۔
پریس کانفرنس کی آخر میں حفصہ نے کہاکہ ہم انصاف چاہتے ہیں، اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے والد کو قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے یا باحفاظت رہا کیا جائے۔
