بی این پی میں اصولوں کا جنازہ، وزارت کی دیگ اور گوازی داسہ مزا کیک تحریر :- ڈاکٹر محبوب شاہ



بلوچستان کی سیاست بھی عجیب تماش گاہ ہے۔ یہاں سیاسی جماعتوں کے منشور کتابوں میں، اصول تقریروں میں، وفاداریاں تصویروں میں اور اختلافات حکومتی دعوتوں کی میز پر نظر آتے ہیں۔ بعض جماعتوں میں کارکن برسوں نظریات کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں، مگر جب اقتدار کی دیگ چولہے پر چڑھتی ہے تو نظریات کی پلیٹ اٹھائے ہر شخص اپنی باری کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی، سفید ریش جہانزیب مینگل کی براہوئی زبان میں فیس بک پوسٹ گوازی داسہ مزا کیک، نے ایک بار پھر بلوچستان کی سیاست میں تجسس کی لہر دوڑا دی ہے، اختر مینگل کی اصول، جہانزیب مینگل کی کھیل اور وزارت کی حسین خواب، و گوازی داسہ مزہ کیک۔ 

بظاہر اس جملے کا مفہوم ہے کہ کھیل میں اب مزا آئے گا۔ اب یہ مزا کس کھیل میں آئے گا، کھلاڑی کون ہوں گے اور تماشائیوں میں کون تالیاں بجائے گا، اس کی وضاحت تو جہانزیب مینگل ہی کر سکتے ہیں۔ البتہ بلوچستان کی سیاسی صورتِ حال دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کھیل کے قواعد سے زیادہ کھلاڑیوں کی پوزیشن اہم ہوتی ہے۔ کوئی اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت کی دعوتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے، کوئی حکومت میں رہ کر اپوزیشن کے نعرے لگاتا ہے، اور کوئی اپنی جماعت کے اندر رہتے ہوئے ایسی چال چلتا ہے کہ جماعت کو اپنی ہی صفوں میں مخالف کھلاڑی تلاش کرنے پڑتے ہیں، کیونکہ ایسے کھلاڑی ناشتہ حکومت کے ساتھ، منشور جیب میں اور نعرہ، گوازی داسہ مزہ کیک؟ 

جہانزیب مینگل کے اس مختصر جملے کو حکومت میں شمولیت، وزارتِ داخلہ کی ممکنہ پیش کش اور بی این پی سے اختلافات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اصولوں کی سیاست، یا کرسی کا عشق' بی این پی میں نیا سیاسی تماشا، تاہم ان خبروں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہ آنے کے باعث کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک رکنِ اسمبلی اپنی جماعت کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہوئے حکومتی حلقوں میں مسلسل نظر آئے اور پھر اپنے ہی سوشل میڈیا پیج پر ایسا جملہ لکھ دے جسے سیاسی حلقے اپنی اپنی خواہش کے مطابق سمجھنے لگیں، تو اس سے جماعت کی اندرونی صورتِ حال کے بارے میں سوالات کیوں پیدا نہیں ہوں گے؟

گوازی داسہ مزہ کیک، وزارت کی خوشبو یا اختلافات کا دھواں؟

کبھی لنچ کبھی ڈنر کبھی ٹرین کا افتتاح شاید اب وزارت کی باری ہے؟ سیاسی تھیٹر، اصول اسٹیچ ہر وزارت پردے کے پیچھے۔ 

یہاں معاملہ صرف ایک براہوئی جملے کا نہیں، بلکہ اس سیاسی روایت کا ہے جس میں جماعتی نظم و ضبط، نظریاتی وابستگی اور انفرادی سیاسی حکمتِ عملی کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کارکن کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ پارٹی کا منشور پڑھے یا اپنے منتخب نمائندے کی فیس بک ٹائم لائن، جماعت سردار اختر مینگل کی کھیل جہانزیب مینگل کا، لگتا ہے بی این پی میں اصول روزگار ہے مگر سیاسی مصلحتیں برسرروزگار، ناشتے کی میز سے وزارت دفتر تک، گوازی داسہ مزہ کیک۔ 

بی این پی: اصولوں کی جماعت یا اصولوں سے آزاد سیاسی کلب؟

چاہے کی پیالی میں وزارت کا طوفان فیس بک پوسٹ سے سیاسی زلزلہ تک باریش رہنما کا سفر۔ 

سردار اختر مینگل کی قیادت میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے قوم پرستی، صوبائی حقوق، وسائل پر اختیار اور بلوچستان کے سیاسی مسائل کو اپنی سیاست کا اہم حصہ بنایا ہے۔ جماعت کی تاریخ میں اصولی مؤقف، اختلافات، علیحدگیاں اور سیاسی مصلحتیں، سب کے اپنے اپنے ابواب ہیں۔ اب جہانزیب مینگل کے معاملے نے ایک بنیادی سوال پھر اٹھا دیا ہے، کیا بی این پی ایسی جماعت ہے جہاں اصولوں کے نام پر ہر شخص کو اختلاف کی آزادی حاصل ہے، یا جماعتی نظم اس حد تک کمزور ہے کہ ہر رہنما اپنی سیاسی گاڑی کے لیے الگ راستہ منتخب کر سکتا ہے؟

اگر ایسا ہے تو پارٹی کے اندر اصولوں کا روزہ ھمیشہ وزارت کا افطار کا شکار کیوں بن جاتا ہے۔ 

اگر پہلی بات درست ہے تو جہانزیب مینگل کے اختلاف کو بھی سیاسی برداشت اور جمہوری تنوع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ لیکن اگر جماعت کا باقاعدہ مؤقف کچھ اور ہے، اس کے فیصلے کچھ اور ہیں اور اس کے منتخب نمائندے کے سیاسی میل جول کی سمت کچھ اور، تو پھر پارٹی قیادت کو واضح کرنا ہوگا کہ جماعتی پالیسی کیا ہے اور اس کی پابندی کس پر لازم ہے۔

سیاسی جماعت کوئی ایسا سرائے خانہ نہیں ہوتی جہاں ہر مسافر اپنی منزل کے مطابق کمرہ لے، صبح ناشتے میں ایک جماعت کا مؤقف کھائے، دوپہر کو دوسری جماعت کے ساتھ لنچ کرے اور رات کو تیسری جماعت کے ساتھ مستقبل کی سیاست کا ڈنر کر لے۔ کم از کم اصولی سیاست کا دعویٰ کرنے والی جماعت سے یہ توقع ضرور کی جاتی ہے کہ اس کے فیصلوں اور نمائندوں کے طرزِ عمل میں کوئی نہ کوئی ربط دکھائی دے۔

ایٹمی دھماکوں پر اختلاف اور جماعتی صفوں میں دراڑیں۔ 

بی این پی کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ایٹمی دھماکوں کے معاملے پر اختلافات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سردار اختر مینگل کے دورِ حکومت میں ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے سردار عطااللہ مینگل کے تحفظات اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کو اعتماد میں لینے کے سوال نے سیاسی بحث کو جنم دیا۔ اس دور میں جماعت کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے اور متعدد رہنماؤں نے الگ سیاسی راستے اختیار کیے۔

جن میں سردار ثناء اللہ زہری، میر اسرار اللہ زہری، سردار بہادر خان بنگلزئی، میر حاصل بزنجو، طاہر بزنجو، اسد بلوچ،مہیم خان بلوچ، اور احسان شاہ سمیت مختلف رہنماؤں کے سیاسی سفر میں جماعتی وابستگیوں اور علیحدگیوں کے کئی مراحل آئے۔ ان تمام واقعات کی تفصیلات اور ہر رہنما کے الگ ہونے کی وجوہات اپنی جگہ، لیکن ان سے ایک بات ضرور سامنے آتی ہے کہ بلوچستان کی قوم پرست سیاست میں نظریاتی اختلافات اور جماعتی وفاداریاں ہمیشہ ایک سیدھی لکیر پر نہیں چلیں۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ اگر اختلاف اصولوں کی بنیاد پر ہو تو کیا جماعت کو اپنے مؤقف کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے؟

اور اگر اختلاف سیاسی مفادات کے تحت ہو تو کیا کارکنوں کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ ان کی جماعت کا منشور آخر کس وقت نافذ ہوتا ہے؟

اصول بھی کمال کی چیز ہیں۔ جب مخالف جماعت سے اختلاف ہو تو اصول سینے پر تمغے کی طرح سجائے جاتے ہیں، اور جب اپنے لوگوں میں اختلاف پیدا ہو تو انہی اصولوں کی تشریح کے لیے ایک نئی کمیٹی درکار ہو جاتی ہے۔

نواب اکبر بگٹی کی شہادت، استعفوں کا اعلان اور سینیٹر کی واپسی۔ 

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد سردار اختر مینگل کی جانب سے صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے احتجاج  استعفوں کے اعلان نے بھی بی این پی کی سیاست میں ایک اہم مرحلہ پیدا کیا۔ اس وقت جماعتی فیصلوں اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے مختلف صورتیں سامنے آئیں۔

اس دور میں جماعت کے سینیٹر مستفی ہوہے بغیر موبائل فون بند کر کے ثناء بلوچ لندن چلے گئے اور بعد میں اپنی سینیٹ کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہی استعفیٰ پیش کیا۔ اس واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ، مگر سیاسی طنز کا پہلو واضح ہے، ہمارے ہاں استعفے کا اعلان کبھی سیاسی اصول بن جاتا ہے، لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے کیلنڈر کی الگ تاریخ درکار ہوتی ہے۔

عام کارکن اگر پارٹی کے کسی فیصلے پر عمل نہ کرے تو اسے نظم و ضبط کا سبق دیا جاتا ہے۔ لیکن جب کسی بڑے عہدے دار کے سامنے وہی سوال آتا ہے تو وضاحتوں کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ کارکن کے لیے اصول فوری، رہنما کے لیے اصول مشاورتی، اور صاحبِ اختیار کے لیے اصول حالات کے مطابق قابلِ توسیع۔ 

یہی وہ فرق ہے جو سیاسی جماعتوں کے دعووں اور ان کے عملی رویّوں کے درمیان عوام کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

احسان شاہ کا معاملہ اور جماعتی فیصلوں کی گرہ۔

احسان شاہ کے خاندان کی سیاسی نمائندگی اور ان کی اہلیہ کی سینیٹ کی رکنیت کا ذکر بھی موجود ہے، جس کے بعد جماعتی اختلافات اور علیحدگی کا معاملہ سامنے آیا۔ ایسے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی خاتون کا سینیٹر منتخب ہونا بذاتِ خود کوئی غیر اصولی عمل نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ انتخاب کس طریقۂ کار کے تحت ہوا، جماعتی فیصلے کیا تھے اور بعد میں اختلاف کس نوعیت کا پیدا ہوا۔

سیاسی جماعتوں میں خاندان، شخصیات اور ذاتی تعلقات کا اثر اگر جماعتی اداروں اور قواعد سے زیادہ ہو جائے تو کارکن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ جماعت کا فیصلہ کون کرتا ہے، منشور، تنظیمی کمیٹی، پارٹی سربراہ یا سیاسی حالات کے مطابق بدلنے والی ضرورت؟

یہ سوال صرف بی این پی کا نہیں۔ پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں کو اس نوعیت کے سوالات کا سامنا رہا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں جماعتیں عوام کے سامنے ادارہ جاتی سیاست کا وعدہ کرتی ہیں، مگر اندرونی فیصلوں میں شخصیات کا وزن اداروں سے زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

سریاب کا ٹکٹ، سینیٹ کا انتخاب اور ووٹ کی اپنی منزل۔ 

سریاب سے ایک خاتون کو پارٹی ٹکٹ دے کر بلوچستان اسمبلی میں پہنچایا گیا، لیکن بعد میں سینیٹ کے انتخاب میں انہوں نے جماعت کے جنرل سیکریٹری ساجد ترین کے بجائے کسی دوسرے جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیا۔

تاہم اگر کسی جماعت کا منتخب نمائندہ اس کے طے شدہ فیصلے کے برخلاف ووٹ دے تو یہ محض ایک ووٹ کی تبدیلی نہیں رہتی، یہ جماعتی نظم، سیاسی جواب دہی اور کارکنوں کے اعتماد کا معاملہ بن جاتا ہے۔

ٹکٹ دیتے وقت جماعت امیدوار کو اپنا نمائندہ سمجھتی ہے، انتخاب کے بعد عوام اسے اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں، اور سینیٹ کے ووٹ کے وقت اگر نمائندہ کسی تیسرے راستے پر چل پڑے تو پھر یہ بحث شروع ہو جاتی ہے کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔

یوں سیاسی جماعتوں میں ٹکٹ کا سفر بھی دلچسپ ہے، پہلے امیدوار کو یقین دلایا جاتا ہے کہ جماعت تمہارے ساتھ ہے، پھر امیدوار منتخب ہو کر یہ ثابت کرنے لگتا ہے کہ اب وہ اپنے سیاسی فیصلوں میں آزاد ہے۔ درمیان میں منشور کہیں بیٹھا اپنی باری کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ولی کاکڑ کی گورنری، رشتہ داروں کی بھرتیاں اور اصولوں کا امتحان۔ 

جب ولی کاکڑ کو پارٹی پالیسی کے تحت گورنر بنایا گیا تو، وہ مسلسل کہتے رہے کہ یہ کرسی انہیں سردار اختر مینگل نے دلوائی ہے اور جب وہ کہیں گے تو وہ اس کرسی کو لات مار دیں گے۔ لیکن بعد میں صورتِ حال یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے قریبی رشتہ داروں کو بھرتیوں میں نوازا گیا اور مختلف جامعات کی کینٹینوں تک کے معاملات میں اپنے قریبی لوگوں کو آگے لانے کی باتیں سامنے آئیں۔ پھر یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ وہ سردار اختر مینگل کا فون تک اٹھانے کی زحمت تک نہیں کرتے تھے۔

اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہاں بھی سیاسی اصولوں اور عملی رویّوں کے درمیان فاصلہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ کرسی ملنے تک احسان مندی کے قصیدے، اور کرسی سنبھالنے کے بعد خودمختاری کے دعوے، ابتدا میں کرسی کو لات مارنے کے اعلانات، پھر اسی کرسی سے ایسی وابستگی کہ فون اٹھانے کی زحمت بھی گراں گزرنے لگے.

سیاست میں بعض اوقات اصولوں کا وزن کرسی کے وزن سے کم ثابت ہوتا ہے۔ جب تک کرسی دور ہو، اسے ٹھکرانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، اور جب کرسی مل جائے تو پھر اسے چھوڑنے کے لیے مناسب وقت، موزوں حالات اور شاید ایک نئی سیاسی پیش کش کا انتظار کیا جاتا ہے۔

منظور گچکی، ایوب جتک اور سیاسی راستوں کی تبدیلی۔ 

منظور گچکی اور بی ایس او کے سابق چیئرمین ایوب جتک کے حوالے سے بھی جماعتی اختلافات اور مختلف سیاسی ادوار میں حکومتی عہدوں تک پہنچنے کا ذکر موجود ہے۔ ان واقعات کی ہر تفصیل کی الگ تصدیق ضروری ہے، مگر مجموعی طور پر بلوچستان کی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے درمیان آمد و رفت، علیحدگیوں اور حکومتی شمولیتوں کی روایت کسی سے پوشیدہ نہیں۔

یہاں نظریات کبھی طویل سفر پر نکلتے ہیں، مگر وزارت کی منزل سامنے آئے تو بعض سیاسی مسافر اپنا راستہ مختصر کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے سیاسی بصیرت کہتے ہیں، کچھ مصلحت، اور کچھ اسے اقتدار کے موسم کی تبدیلی کے ساتھ وفاداری کا نیا کیلنڈر سمجھتے ہیں۔

البتہ ہر سیاسی تبدیلی کو لازماً بے اصولی کہنا بھی درست نہیں۔ سیاسی اختلاف، جماعت چھوڑنا اور حکومت میں شامل ہونا جمہوری سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اصل سوال شفافیت کا ہے، کیا فیصلہ عوام کے سامنے واضح مؤقف کے ساتھ کیا گیا؟

 کیا جماعتی قواعد پر عمل ہوا؟

 اور کیا ووٹر کو بتایا گیا کہ اس کے نام پر حاصل کیا گیا مینڈیٹ اب کس سیاسی سمت میں استعمال ہوگا

اور اب جہانزیب مینگل ناشتے میں پجے کے پاہے سے، گوازی داسہ مزا کیک‘‘ تک۔ 

اب آتے ہیں اس تازہ سیاسی منظرنامے کی طرف، جس میں سردار اختر مینگل کے کزن اور بی این پی کے رکنِ صوبائی اسمبلی جہانزیب مینگل کے حکومتی حلقوں میں میل جول نے سیاسی بحث کو ہوا دی ہے۔ وہ کبھی ناشتے، کبھی لنچ اور کبھی ڈنر کی محفلوں میں وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی اور اس کی کابینہ کے ارکان کے ساتھ دکھائی دیتے رہے ہیں۔

ان ملاقاتوں کو بعض حلقے ممکنہ حکومتی شمولیت کے اشاروں کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ان کا حقیقی سیاسی مقصد ابھی غیر واضح ہے۔

سیاست میں ناشتے کی میز پر پجے کے پاہے بھی کبھی کبھی پریس کانفرنس سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ پریس کانفرنس میں رہنما کو سوالوں کے جواب دینے پڑتے ہیں، جبکہ ناشتے میں چائے کی پیالی، چند مسکراہٹیں اور مستقبل کی سیاست کے اشارے ہی کافی سمجھے جاتے ہیں۔ لنچ میں تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، ڈنر میں امکانات روشن ہوتے ہیں، اور اگلی صبح فیس بک پر ایک براہوئی جملہ آتا ہے تو سیاسی حلقے اس الفاظ کی نقشے کے اندر وزارت کا نوٹیفکیشن تلاش کرنے لگتے ہیں۔

جہانزیب مینگل نے لکھا گوازی داسہ مزا کیک۔

اب اس جملے کے کئی ممکنہ مطلب نکالے جا رہے ہیں۔ کسی کو اس میں حکومتی شمولیت کی خوشبو آتی ہے، کسی کو جماعتی اختلافات کا اشارہ دکھائی دیتا ہے، اور کسی کو محض ایک عام سا جملہ نظر آتا ہے۔ لیکن بلوچستان کی سیاست میں جب کوئی منتخب نمائندہ ایسے وقت میں مبہم پیغام دے، جب اس کی جماعت سے اختلافات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہوں، تو سیاسی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہونا حیرت کی بات نہیں۔

طنز کا اصل مقام یہ ہے کہ اگر واقعی وزارت کی خواہش یا حکومتی شمولیت زیرِ غور ہے تو سیاسی فیصلے کا اعلان واضح الفاظ میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ عوام کو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ ایک رکنِ اسمبلی حکومت میں شامل ہونا چاہتا ہے یا اپنی جماعت سے اختلاف رکھتا ہے۔ البتہ جب بات اشاروں، دعوتوں، تصویروں اور مبہم جملوں میں کی جائے تو ہر شخص اپنی سیاسی لغت لے کر بیٹھ جاتا ہے۔

کوئی کہتا ہے وزارت آنے والی ہے، کوئی کہتا ہے شوکاز نوٹس کا جواب تیار ہو رہا ہے، اور کوئی کہتا ہے کہ ابھی صرف کھانے کی میز گرم ہے، سیاسی دیگ چڑھنے میں وقت ہے۔ 

شوکاز نوٹس، جماعتی نظم کا امتحان یا سیاسی موسم کا اشارہ؟

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، بی این پی نے پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کے معاملے پر جہانزیب مینگل کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو اب معاملہ محض فیس بک کی ایک پوسٹ یا حکومتی تقریبات میں شرکت تک محدود نہیں رہتا۔ سوال یہ بنتا ہے کہ جماعت نے ان سے کیا وضاحت طلب کی، ان کا جواب کیا ہے اور پارٹی کے قواعد کے مطابق آئندہ کیا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہاں سردار اختر مینگل کی قیادت کے سامنے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر جماعتی نظم واقعی اہم ہے تو اس کا اطلاق ہر رکن پر یکساں ہونا چاہیے، چاہے وہ عام کارکن ہو یا سربراہ کا قریبی رشتہ دار۔ اور اگر اختلاف کی گنجائش موجود ہے تو اس کے لیے بھی واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے، تاکہ سیاسی فیصلے شخصی پسند و ناپسند کے بجائے جماعتی اصولوں کے مطابق ہوں۔

کیونکہ اگر شوکاز نوٹس جاری ہو، مگر اس کے بعد بھی جماعتی پالیسی اور رکن کے طرزِ عمل کے درمیان فاصلہ برقرار رہے، تو عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ شوکاز نوٹس وضاحت طلب کرنے کے لیے ہے یا رشتہ داری اور سیاسی درجۂ حرارت ناپنے کے لیے؟

اور اگر کسی رکن کے لیے پارٹی نظم ایک قابلِ بحث معاملہ بن جائے تو عام کارکن کے لیے اس کی پابندی کس بنیاد پر لازم قرار دی جائے گی؟

سردار اختر مینگل کی گرفت مضبوط ہے یا جماعت میں اختلاف کی گنجائش زیادہ؟

یہی وہ مقام ہے جہاں دو امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ بی این پی واقعی ایسی جماعت ہے جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور ہر منتخب نمائندے کو اپنی سیاسی رائے رکھنے کی آزادی حاصل ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ جماعتی قیادت کے لیے اپنے منتخب نمائندوں کو ایک مشترکہ سیاسی لائن پر رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ان دونوں امکانات میں فرق محض لفظوں کا نہیں۔ اگر یہ جمہوری برداشت ہے تو جماعت کو اسے اپنی سیاسی روایت کے طور پر واضح کرنا چاہیے۔ اگر یہ تنظیمی کمزوری ہے تو اسے دور کرنے کے لیے جماعتی قواعد، مشاورت اور جواب دہی کا نظام مضبوط کرنا ہوگا۔

لیکن طنزیہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے، اگر پارٹی کے اندر اختلافات معمول بن جائیں، شوکاز نوٹس جاری ہوتے رہیں، منتخب نمائندے اپنی الگ سیاسی سمت میں چلتے دکھائی دیں اور پھر ایک جملہ پورے سیاسی منظرنامے کو ہلا دے، تو کیا جماعت کو اپنے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ نہیں لینا چاہیے؟

آخر میں، کھیل کس کا ہے اور مزا کس کو آئے گا؟

بلوچستان کے عوام کو سیاسی جماعتوں سے صرف تقریریں، پریس ریلیز، شوکاز نوٹس اور فیس بک پوسٹیں نہیں چاہییں۔ انہیں روزگار، تعلیم، صحت، امن، ساہل او وسائل پر اختیار اور بہتر حکمرانی کے سوالوں کے جواب بھی درکار ہیں۔ انہیں یہ جاننے میں بھی دلچسپی ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اسمبلی میں ان کے مسائل اٹھا رہے ہیں یا سیاسی مستقبل کی شطرنج میں اپنی اگلی چال سوچ رہے ہیں۔

جہانزیب مینگل کے جملے گوازی داسہ مزا کیک پر سیاسی حلقے جتنی چاہیں بحث کریں، مگر اصل مزا تب ہوگا جب اس جملے کا مطلب کسی قیاس آرائی کے بجائے واضح سیاسی فیصلے سے سامنے آئے گا۔ اگر وہ حکومت میں شامل ہوتے ہیں تو اپنے مؤقف کی وضاحت کریں، اگر بی این پی سے اختلاف ہے تو اس کی وجوہات بتائیں، اور اگر اس پوسٹ کا کسی وزارت یا جماعتی اختلاف سے کوئی تعلق نہیں تو وہ بھی واضح کر دیں۔

اسی طرح بی این پی کی قیادت کو بھی بتانا ہوگا کہ جماعتی اصول کیا ہیں، اختلاف کی حدود کیا ہیں اور شوکاز نوٹس کا عملی نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا ہے۔

ورنہ بلوچستان کی سیاست میں عوام کا کردار ہمیشہ کی طرح وہی رہے گا: کبھی تماشائی، کبھی تالیاں بجانے والے اور کبھی اگلے انتخاب میں حساب مانگنے والے۔

فی الحال جہانزیب مینگل نے صرف ایک جملہ لکھا ہے، مگر سیاسی حلقوں نے اس میں پوری وزارت، نئی صف بندی اور آئندہ انتخابات کی کہانی پڑھ لی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعی کھیل شروع ہونے والا ہے یا سیاست کے اسٹیج پر صرف ایک جملے نے پردے کے پیچھے بیٹھے کرداروں کو اپنی اپنی جگہ سے اٹھا دیا ہے۔

کیونکہ بلوچستان کی سیاست میں کبھی کبھی ایک فیس بک پوسٹ اتنا شور مچا دیتی ہے کہ عوام اپنے اصل مسائل بھول کر یہی پوچھتے رہ جاتے ہیں، گوازی داسہ مزا کیک میں آخر مزا کس کو آنے والا ہے، جماعت کو، حکومت کو، وزارت کے امیدوار کو یا صرف سیاسی تماشائیوں کو؟

( شکریہ باور نیوز)

Post a Comment

Previous Post Next Post