میرے آبائی گاؤں پروم کی زرخیز مٹی اعلیٰ پائے کے بلوچ قوم پرست رہنماؤں سے ضرور شناسا ہوگی، جنہوں نے اس مٹی کو عزت بخشی۔ وہ ہفتوں تک اس دور افتادہ گاؤں میں قیام پذیر رہے۔ یہاں کے باسیوں سے ان کا ایک ایسا اپنائیت کا احساس پیدا ہوا جو تاحیات جاری رہا۔ ان میں میر غوث بخش بزنجو کے بعد ایک ایسے انسان نے پروم کو اپنا مسکن بنایا، جن کی وطن پرستی اور قوم دوستی کے خیالات سے ہمارے گاؤں کے بزرگوں کو میر غوث بخش بزنجو کی روح ڈاکٹر حکیم لہڑی کے روپ میں ملتی تھی۔
کیونکہ جس وقت پروم میر غوث بخش بزنجو کا مسکن رہا تھا، اس وقت بلوچستان کی سیاست وفاق پرستی اور سخت گیر قوم پرستی کے بھنور میں پھنس چکی تھی۔ نوجوان طبقے کی قیادت کرنے والے لیڈروں میں ڈاکٹر مالک صاحب سرفہرست تھے، جو میر غوث کے لچکدار سیاست کے سخت ناقد تھے۔ گو کہ وقت نے کلا بازی/پلٹا کھایا ہوگا، آج ڈاکٹر مالک میر غوث بخش بزنجو کی سیاست کے وارث اور والی بن گئے۔ نوجوانوں کے سخت گیر خیالات کے سبب میر غوث بخش بزنجو کے اکثر دوست ہمارے گاؤں میں بزرگ ہی ہوتے تھے۔ میر غوث بخش کی یادوں سے شناسائی مجھے والد کی بیٹھک میں آویزاں میر غوث سمیت شیرو مری اور بلخ شیر مزاری کے دیوقامت پوسٹروں سے ہوئی، جن کا روز دیدار ہمارے لیے ذہنی تسکین سے کم نہ تھا۔ مجھے ایسا لگتا تھا وہ تصویریں بولتی تھیں، وہ ہمیں وطن پرستی اور قوم دوستی کی تلقین کرتی تھیں۔ میرے سخت گیر قوم پرست رجحانات کے سبب ہمارے بیٹھک سے آہستہ آہستہ یہ تصویریں ہستہ حالی کے سبب غائب ہوتی گئیں۔ گو کہ میں آج تک میر غوث بخش بزنجو کے طرزِ سیاست کا ڈاکٹر مالک کی نوجوانی کی طرح مخالف رہا ہوں، لیکن ان کے ہم نشیں ڈاکٹر حکیم لہڑی کے سبب ہی ہم بلوچ وطن کے عاشق بنتے ہوئے، سیاست سے ہوتے ہوئے مسلح ہو گئے۔ ریاست کے ساتھ ایک اعصاب شکن جنگ کے دوران ہی گرفتار ہوئے، لاپتہ ہوئے اور آج غیر اعلانیہ عمر قید کی سزا کے طور پر اپنی زندگی مقید کی حیثیت سے گزار رہے ہیں۔ 1997ء کو میرے والد کے قتل کے بعد 2000ء کو، غالباً تین چار سال کے بعد، ڈاکٹر حکیم لہڑی جب مکران کے دورے کے بعد پنجگور آئے تو انھوں نے میرے مرحوم چچا برکت بلوچ سے پروم جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ چنانچہ راہ شناسی کے لیے چچا نے مجھے ان کے ساتھ روانہ کیا۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی نے اس وقت اپنی نئی سیاسی جماعت بلوچستان نیشنل کانگریس تشکیل دی تھی، جس کا اسٹوڈنٹس ونگ بلوچ اسٹوڈنٹس کانگریس تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مذکورہ نیم جان اسٹوڈنٹس تنظیم کا چیئرمین بھی ساتھ تھا، جس کا اسم میں اب بھول گیا ہوں، جو ہمارے فیوڈل بیلٹ کے نوجوان تھے؛ جس سے شناسائی کے بعد ہم غالباً 18 سال کی عمر میں اس تنظیم کے رکن سے پنجگور زون کے آرگنائزر بن گئے۔
ڈاکٹر حکیم لہڑی مذکورہ دورے کے دوران غیر پارلیمانی سیاست کی وکالت کے ساتھ بلوچ قومی جہد کے حوالے سے سخت گیر پالیسی کی وکالت کرتے تھے۔ ان کے ساتھ ایک اہم ہزارہ قوم کے قوم پرست کامریڈ بھی ساتھ تھے، جس کی موجودگی ڈاکٹر حکیم کے مکران کے دورے کو منفرد بنا رہی تھی۔ ہم اپنی بساط کے مطابق مذکورہ طالب علم تنظیم کو فعال بنانے کی جہد میں مگن ہو گئے تھے۔ چونکہ اس وقت ہم اسکول کے جماعت دہم کے طالب علم تھے، ہمارا تنظیم صرف ماڈل ہائی اسکول پنجگور کی حد تک فعال رہا۔ جس طرح ڈاکٹر حکیم لہڑی کی غیر پارلیمانی سیاست کے موقف نے دم توڑ دیا تھا، اسی طرح میرے اس تنظیم کے ساتھ سیاست نے بھی دم توڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر حکیم لہڑی نے سابقہ تجربات کو دہراتے ہوئے ایک بار پھر غالباً 2003ء کے الیکشن میں قسمت آزمائی کرتے ہوئے الیکشن میں حصہ لیا، لیکن وہ اپنی وفات تک اس غیر موثر پارلیمان کا رکن منتخب نہیں ہو سکے۔ وہ ایک ملنگ، درویش صفت، بلوچ پرست، انسان دوست رہنما تھے۔ وہ ہماری طرح بلوچ کی بہتر زندگی کا خواب لے کر ایک زمانے میں باغی ہو گئے تھے۔ وہ بلوچ کے مقدمے کے لیے کابل اور قندھار کا، میرے جہد کی طرح، یاترا کر چکے تھے۔ڈاکٹر حکیم سے آخری ملاقات 2004کو ان کے پروم کے ایک بزرگ پرستار شکاری محمد یعقوب کے ہمراہ ہوئی خوب محفل سجا اب وہ پارلیمانی سیاست سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہوچکے تھے اس کی تمام امیدیں بلوچ کی نئی نسل سے وابستہ ہوگئے تھے میری گرفتاری اور شال میں نظر بندی کے بعد جب شکاری یعقوب جو خود بھی گرفتار ہوئے تھے اپنی رہائی کے بعد جب مجھ سے ملاقات کے لئے میرے مقید خانے آئے تھے مجھ معلوم تھا وہ اپنے مرشد ڈآکٹر حکیم سے ضرور ملاقات کریں گا تو میں نے اپنے بھائی سمیت شکاری یعقوب کو ایک گلہ جیسا شکوہ لالا حکیم کے لئے روانہ کیا کہ ہم آپ کے شال میں نظر بند ہیں آپ نے ہماری حال پرسی تک گوارہ نہیں کیا تو جواب شکوہ میں میرے مقید خانے میں ملاقات کی اجازت سے لاعلمی کا اظہار کررہے تھے وہ جلد مجھ سے ملاقات کی خواہش رکھتے ہوئے بیمار ہوگئے۔ آج اپنے مقید خانے میں مجھے اپنے دستیاب سوشل میڈیا سہولت کے سبب جب لالہ حکیم لہڑی اور مشہور انڈین اداکار سب کی پسندیدہ اداکار نانا پاٹیکر وفات کی خبرایک ہیں دن میں موصول ہوئی، نانا پاٹیکر اپنے مشغلہ میں ایک کامیاب انسان تھے ہم اور ڈآکٹر حکیم نے نیم جان انقلابی سرداروں کی دوستی سمیت قہر کا بھی خوب سامنا کیا ہم نانا کی طرح سب کی دلوں میں راج کرنے میں کامیاب نہیں بلکہ بعض دلوں میں متنازعہ کردار بن گئے آج دل میں محسوس ہوا کہ شال کی افسردہ ہواؤں میں مزید افسردگی کا عنصر شامل ہوگیا شال کی رونقیں ماما قدید کی جدائی کے بعد ایک اور بلوچ بزرگ قوم پرست کی جدائی کے بعد مزید ماند پڑ گئے ہیں سوچتا ہوں ڈاکٹر حکیم کی روح کو ضرور سکون ملے گا، کیونکہ وہ شال کی دیواروں پر لگے بلوچ اور دیگر کے خون کے دھبوں کو محسوس کرنے اور گھٹن زدہ ماحول میں زندہ رہنے سے آزاد ہو گیا ہوگا۔ کیونکہ بلوچ وطن میں جاری کشت و خون ہر ذی شعور انسان کے شعور کو زخمی کر رہے ہیں۔
