ہمارا معاشرہ ان دنوں سیاسی بے گانگی اور عوامی مایوسی کی کیفیت سے دوچار ہے، جہاں سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا حصول بن چکا ہے۔سیاست کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی مسائل کے حل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن جب سیاست عوامی مفادات سے ہٹ کر مخصوص گروہوں کے تحفظ تک محدود ہو جائے تو عام آدمی کا اس نظام سے اعتماد اٹھنا فطری عمل ہے۔
ہمارے معاشرے میں موجودہ سیاسی صورتحال بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عوامی مسائل کے حل کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔عام شہریوں کی سیاست سے دوری اور مایوسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیاسی قیادت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔سرکاری محکموں میں ملازمتوں کی فراہمی بھی ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکی ہے، جہاں مبینہ طور پر چپڑاسی سے لے کر گریڈ 16 تک کی آسامیوں کے حصول میں سفارش اور مالی لین دین کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔مختلف محکموں میں خالی آسامیوں کے لیے اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں، لیکن بعض اوقات بھرتیوں کا عمل منسوخ کر دیا جاتا ہے اور کئی ماہ بعد تقرریوں کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بااثر افراد اور مالی وسائل رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح ملتی ہے، جبکہ غریب اور مستحق نوجوان میرٹ کے باوجود مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔اگرچہ ان شکایات کی باقاعدہ تحقیقات اور حقائق کی تصدیق ضروری ہے، لیکن ایسے الزامات کا مسلسل سامنے آنا بھی نظامِ بھرتی میں شفافیت کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران روزگار کے مواقع کی غیر منصفانہ تقسیم سے متعلق عوامی شکایات نے نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیا ہے۔ایک طرف ایسے گھرانے ہیں جہاں بے روزگاری نے معاشی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے، تو دوسری جانب ایسے خاندانوں کی مثالیں بھی دی جاتی ہیں جہاں متعدد افراد سرکاری ملازمتوں پر فائز ہیں۔یہ صورتحال میرٹ، مساوی مواقع اور انصاف کے اصولوں پر سنجیدہ بحث کا تقاضا کرتی ہے۔سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمتوں کی تقسیم کو سفارش اور اثرورسوخ کے بجائے اہلیت، قابلیت اور میرٹ سے مشروط بنائے۔اسی طرح پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا اور علاقے کی پسماندگی دور کرنا ہونا چاہیے۔اگر ترقیاتی منصوبے سیاسی اثرورسوخ، ذاتی مفادات یا اقرباپروری کی نذر ہو جائیں تو ان سے عوام کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
عوام کو صاف پانی، معیاری تعلیم، بہتر صحت، روزگار، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے منصوبوں کی جو صرف مخصوص افراد کے مفادات پورے کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لیں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور بنائیں۔سرکاری بھرتیوں میں شفافیت، ترقیاتی منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ اور میرٹ کی پاسداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر سیاسی قیادت نے عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو سیاست سے بڑھتی ہوئی بے زاری جمہوری عمل کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔معاشرے میں حقیقی سیاسی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب سیاست ذاتی اور گروہی مفادات سے نکل کر عام آدمی کے حقوق، نوجوانوں کے مستقبل اور اجتماعی ترقی کی ضامن بنے۔
