پنجگور(نامہ نگار )بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری میر نذیر احمد نے اپنے ایک مذمتی بیان میں پنجگور کے معروف کاروباری شخصیت، انجمن تاجران کے چیئرمین اور بی این پی کے دیرینہ ساتھی حاجی سمیع اللہ بلوچ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ پنجگور کی ایک اہم سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت تھے، جو اپنی ملنساری اور عوامی خدمات کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ انہیں ضلع واشک کے علاقے میں مبینہ طور پر بھتہ دینے کے لیے روکے جانے کے بعد فائرنگ کرکے شہید کیا گیا۔ یہ واقعہ بی این پی اور پنجگور کے عوام کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔
میر نذیر احمد نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں، جبکہ کاروباری افراد، اساتذہ، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ لوگ کاروبار کرنے، سفر کرنے اور اپنے مریضوں کو علاج کے لیے اسپتال لے جانے میں بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے صوبائی حکومت کے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان میں حالات بہتر ہوچکے ہیں تو پھر آئے روز پیش آنے والے ایسے واقعات کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ ان کے بقول، حاجی سمیع اللہ بلوچ کی گاڑی کوئٹہ سے پنجگور آ رہی تھی کہ راستے میں مبینہ طور پر بھتہ وصول کرنے کے لیے اسے روکا گیا، جہاں وہ فائرنگ کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال کیا کہ صوبے میں ریاستی عمل داری قائم کرنے کے دعووں کے باوجود شہریوں کو تحفظ کیوں حاصل نہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حاجی سمیع اللہ بلوچ کے قتل میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
میر نذیر احمد نے پنجگور کے علاقے خدابادان میں پیر جان ابراہیم کے گھر میں گھس کر مسلح افراد کی فائرنگ سے ان کی شہادت پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان واقعات سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ شہریوں کے گھروں کی حرمت محفوظ ہے، نہ کاروباری شخصیات، سیاسی کارکنوں، طلبہ اور اساتذہ کو تحفظ حاصل ہے۔
انہوں نے دونوں سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
بی این پی کے مرکزی جوائنٹ سیکریٹری نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اگر عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی تو اسے اقتدار چھوڑ کر کسی ایسی قومی سیاسی جماعت کو موقع دینا چاہیے جو بلوچستان کے بنیادی مسائل کے حل، امن کے قیام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکے۔
