جو شخص سرداری کے منصب کو امانت سمجھنے کے بجائے ظلم و ستم کا ہتھیار بنا لے، جو اپنی ہی زہری قوم کے بے گناہ لوگوں پر قہر بن کر برس پڑے، جو حسد، کینہ اور انتقام کی آگ میں گھروں کو جلا دے، نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر دے، یتیموں اور بیواؤں کی فوج کھڑی کر دے۔ماؤں کی گودیں ویران کر دے اور اپنے اقتدار کی ہوس میں ہر حقدار کا حق نگل جائے، وہ سردار نہیں بلکہ اپنی قوم پر نازل ہونے والی بدقسمتی اور لعنت کا نشان ہوتا ہے۔جو سرداری کے نام پر بھتہ خوری، زمینوں پر غاصبانہ قبضے، کاروبار کی تباہی، لوگوں کی شدید تذلیل، ناانصافی اور گہری تعصب کو فروغ دے، جو اپنے مخالف کو صرف اس لیے کچلنا چاہے کہ وہ اس کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔وہ دراصل اپنی زہری قوم کا خیرخواہ نہیں بلکہ اس کے مکمل زوال اور بربادی کا معمار ہوتا ہے۔ایسے بے رحم جابر لوگ اپنے گرد چاپلوسوں اور ڈرپوکوں کا ہجوم جمع کرکے خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں، مگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ظالم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں لکھا گیا ہے۔
چیف آف لینڈ مافیا سردار ثناہ اللہ زہری کا ظلم و ستم زہری قوم کی تباہی کا سب سے بڑا سبب
اقتدار کا نشہ، دولت کا غرور اور خوف کی حکمرانی ہمیشہ عارضی ثابت ہوئی ہے۔ ظلم کے ایوان جتنے بلند ہوں، ان کا سقوط اتنا ہی ہولناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔مظلوم کی آہ، یتیم کے آنسو، بیوہ کی فریاد اور بے بس انسان کی بددعا خاموش ضرور ہوتی ہے مگر بے اثر نہیں ہوتی۔ جب یہ آہیں بارگاہِ الٰہی میں پہنچتی ہیں تو بڑے بڑے طاقت وار جابر لرز اٹھتے ہیں۔پھر نہ قبیلہ بچاتا ہے، نہ دولت، نہ اسلحہ، نہ حواری، نہ درباری وہ سردار جو اپنی زہری قوم کو تعلیم، ترقی، انصاف اور اتحاد دینے کے بجائے خوف، نفرت، تعصب اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دے۔اس کا نام عزت کے صفحات میں نہیں بلکہ سیاہ ترین اوراقِ تاریخ میں لکھا جاتا ہے۔ آنے والی نسلیں ایسے کرداروں کو فخر سے نہیں بلکہ نفرت، ملامت اور سخت عبرت کے ساتھ یاد کرتی ہیں۔اللہ کی مہلت کو اپنی کامیابی نہ سمجھو ظلم کی رسی اگرچہ دراز ہوتی ہے مگر ٹوٹتی ضرور ہے۔
چیف آف لینڈ مافیا ظالم بے رحم سردار ثناہ اللہ زہری زہری قوم پر بے رحمی سے قہر بن کر ٹوٹنے والا جابر سردار
اور جب عدلِ الٰہی کی گرفت آتی ہے تو جابر کا غرور پاش پاش ہو جاتا ہے، اس کی ہیبت خاک میں مل جاتی ہے۔اس کا نام رسوائی کی مثال بن جاتا ہے، اور وہ خود تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکی گئی ایک عبرتناک داستان بن کر رہ جاتا ہے۔زہری قوم کے لوگوں پر اس کا ظلم و جبر اتنا سخت ہے کہ حسد، تعصب اور بے رحمی نے سب کچھ نگل لیا ہے۔
