کوئٹہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے قابض فورسز اور مسلح افراد کے ہاتھوں 5 افراد جبری لاپتہ

 


کوئٹہ( نامہ نگار) مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد فورسز اور مسلح افراد کے ہاتھوں پسنی ،پروم ،کوئٹہ اور قلات سے جبری لاپتہ ہوگئے ۔
تفصیلات کے مطابق ضلع پنجگور کے علاقے جائین، پروم کے رہائشی محمود ہاشم نامی شخص کو ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

لواحقین کے مطابق، محمود ہاشم کو 2 اکتوبر کو پنجگور کے علاقے دازی سے مقامی ڈیتھ اسکواڈ اور ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

اس سے قبل انہیں 16 مارچ اور 3 جون 2021 کو بھی بارڈر پر حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا۔

لواحقین نے انسانی حقوق کے اداروں سے محمود ہاشم کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ
شال اور قلات سے 3 افراد کو مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہوگئے ہیں ،تاہم انکے حوالے سے مکمل تفصیلات آنا باقی ہے ۔
ادھر پسنی سے نامعلوم مسلح افراد نے مکران کوسٹل ہائی وے پر ڈوسی کے مقام پر کوسٹل ہائی وے پولیس کے اہلکار فیصل ستار کو ڈیوٹی کے دوران اغوا کر لیا۔

ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ شام کو پیش آیا تھا، جہاں دو کرولا گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے پولیس اہلکار سے موبائل فون چھین لیا اور چیکنگ کے بعد اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ فیصل ستار کا تعلق پسنی سے بتایا جاتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post