خضدار کیا ہمیں انصاف کے لیے کسی اور سانحے کا انتظار کرنا ہوگا؟
میں ایک ایسی مظلوم بیٹی جس کی زندگی کو ایک المناک واقعے نے ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
میرے اغوا سے شروع ہونے والی اس دردناک داستان میں ہمارا خاندان اپنے پیاروں کو کھوتا چلا گیا۔ میرے والد، عنایت اللہ جتک، کو بھی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ آج میرا خاندان خوف، بے بسی اور عدم تحفظ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دیں اور اپنی فریاد کس کے سامنے رکھیں۔
8 اگست کو اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جسے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنا تھی۔ لیکن 51 دن گزرنے کے باوجود نہ کوئی رپورٹ سامنے آئی، نہ ہی کسی حکومتی ذمہ دار نے ہمارے خاندان کو اعتماد میں لے کر صورتحال سے آگاہ کیا۔ آخر اس تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ ہماری فریاد کس فائل میں دفن ہو چکی ہے؟
میرے والد عنایت اللہ جتک کے قتل کے بعد اچانک اور حیران کن طور پر کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر طفیل بلوچ کا تبادلہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ڈی آئی جی وزیر ناصر نے عوامی سطح پر اعلان کیا کہ اس کیس میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ہمیں ان سے انصاف کی کچھ امید بندھی تھی، لیکن افسوس کہ کل ان کا تبادلہ بھی ہو گیا۔
آخر انصاف کی امید دلانے والے افسران کے تبادلے کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا میرے خاندان کے لیے انصاف کی راہ مزید مشکل بنائی جا رہی ہے؟
مرکزی ملزم ظہور جمالزئی کی گرفتاری تاحال ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ میں پوچھتی ہوں کہ جب ایک خاندان کے افراد قتل ہو چکے ہوں، جب ایک بیٹی اغوا کے کرب سے گزر چکی ہو، تو پھر بھی قانون حرکت میں آنے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہا ہے؟
حکومتی خاموشی، مسلسل تاخیر اور ذمہ دار افسران کے تبادلوں نے ہمارے دلوں میں خوف مزید بڑھا دیا ہے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے ہی گھر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر گزرتا دن ہمارے لیے ایک نیا خوف اور ایک نئی بے یقینی لے کر آتا ہے۔ ہمیں اپنے مستقبل کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں، اپنے پیاروں کے خون کا حساب چاہتے ہیں اور اپنے باقی اہلِ خانہ کے لیے تحفظ چاہتے ہیں۔
آج میں اس معاشرے، حکومتِ بلوچستان، قانون نافذ کرنےوالے اداروں اور ہر صاحبِ ضمیر انسان سے سوال کرتی ہوں؟
میرے خاندان کو انصاف کب ملے گا؟
ظہور جمالزئی کی گرفتاری میں مزید کتنی تاخیر ہوگی؟
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کہاں ہے؟
میرے خاندان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا؟
کیا ہماری فریاد سننے کے لیے کسی اور بے گناہ کی جان جانا ضروری ہے؟
خدارا! ہماری آواز کو نظرانداز نہ کریں۔ میرے خاندان کو مزید کسی سانحے کے انتظار میں نہ چھوڑیں۔ ہمیں صرف تسلیاں نہیں، عملی اقدامات، شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور حقیقی تحفظ چاہیے۔
ہم ٹوٹ چکے ہیں، خوف زدہ ہیں، بے بس ہیں، لیکن اپنے پیاروں کے لیے انصاف کی امید کا آخری دروازہ ابھی بند نہیں کرنا چاہتے۔
اگر آج بھی ہماری آواز نہ سنی گئی تو تاریخ ضرور پوچھے گی کہ جب ایک مظلوم خاندان انصاف کے لیے پکارتا رہا، تب ذمہ دار ادارے کہاں تھے؟
ہمیں آج بھی وزیراعلیٰ بلوچستان جناب میر سرفراز احمد بگٹی صاحب سے امید ہے کہ وہ اس مظلوم خاندان کی فریاد سنیں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ نئے تعینات ہونے والے افسران کسی بھی دباؤ سے بالاتر ہو کر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے، تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے اور ظہور جمالزئی کی گرفتاری سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک مظلوم بیٹی اور بے بس خاندان کو تنہا نہ چھوڑیں، بلکہ انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔ ہمیں صرف امید اور وعدے نہیں، بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔
خدارا، ہمیں انصاف دیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
