کوئٹہ ( نامہ نگار ) مقبوضہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقہ بسیمہ قابض پاکستانی وحشی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ خفیہ اطلاع پر فوج کشی کرکے مسلح تنظیم سے وابسطہ تین نجم الدین اور عدنان سمیت تین افراد کو مقابلے میں ھلاک کردیا گیا ہے۔
یک طرفہ دعوی کے بارے علاقائی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوپائی ہے کہ مزکورہ افراد مسلح یا غیر مسلح تھے ۔مکمل تفصیلات کا انتظار ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مسلح افراد نے حملہ کرکے دو فوجی اہلکاروں کو قتل کردیاہے ۔
فوجی ترجمان آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ مسلح حملے میں قابض پاکستان نیوی کے دو اہلکار، شعیب الرحمٰن اور غفران ہلاک ہوگئے ۔
علاوہ ازیں
بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں نامعلوم مسلح افراد نے تالاران چیک پوسٹ پر حملہ کرکے چیک پوسٹ کے کمروں اور عمارتوں کو آگ لگا دی، جبکہ ایک سرکاری ہتھیار اور گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
دالبندین پولیس حکام کے مطابق واقعہ بدھ کی علی الصبح تقریباً ساڑھے تین بجے پیش آیا، جہاں 18 سے 20 نامعلوم مسلح افراد نے دالبندین سے تقریباً 65 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تالاران چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق مسلح افراد نے چیک پوسٹ کے کمروں اور عمارتوں کے اندر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، مسلح افراد نے وہاں موجود اہلکاروں کو حراست میں لیکر بعد ازاں رہا کردیا ہے۔
دریں اثناء بلوچستان کے اضلاع خاران اور پنجگور میں شام کے وقت پاکستانی فورسز اور ان کے رسد کو نشانہ بنانے کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق خاران شہر کے قریب شام کے وقت مسلح افراد نے پاکستان فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے دوران فوج کی کم از کم تین گاڑیاں براہ راست فائرنگ کی زد میں آئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر تقریباً دس فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، حکام کی جانب سے واقعے، جانی نقصان یا حملے کی تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ادھر ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں پاکستان فورسز کے لیے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو مسلح افراد نے آگ لگا دی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے دوران ایک دوسری گاڑی کو بھی مسلح افراد نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پنجگور ہی کے علاقے چیدگی میں ماشکیل کور کے مقام پر ایک اور واقعے میں، مقامی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کی جانب سے نصب کیے گئے نگرانی کے کیمروں کو تباہ کر دیا۔
بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران فورسز، سرکاری تنصیبات، نگرانی کے نظام اور رسد سے متعلق گاڑیوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ خاران اور پنجگور سمیت متعدد اضلاع میں مسلح سرگرمیوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
