خاران ( نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع خاران سے اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز شروع ہونے والا فوجی آپریشن تاحال جاری ہے، جہاں پاکستانی فوج کی زمینی فورسز کو فضائی کمک بھی حاصل ہے۔
اطلاعات کے مطابق لجے میں جاری فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ڈرون حملے میں کاشتکار سلطان محمد ولد حاجی ملک عثمان ساسولی جاں بحق ہوگئے ۔
علاقے میں تاحال فوجی ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہیں، جبکہ مزید شہریوں کے جانی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر بمباری اور ڈرون حملوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ روز سوراب میں پاکستانی جیٹ طیاروں کی بمباری سے بیس سے زائد شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، نشانہ بنے تھے۔
خاران سمیت خضدار کے مختلف علاقوں، زہری اور مولہ میں بھی ڈرون حملوں میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد نشانہ بنے ہیں ۔
پاکستانی فورسز کے حکام نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں فوجی اہداف قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ فورسز نے مسلح تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھاکیوں کہ وہ آبادیوں میں چھپے ہوئے تھے ۔
علاقہ مکینوں نے آئی ایس پی آر کے دعوی کو مسترد کی ہے کہ وہ ایک بھی مسلح شخص کی نعش یا ٹھکانہ بتائیں جہاں انھیں ماردیاگیا ہو ۔
