بلوچستان میں لڑاکا طیاروں کا استعمال: کیا مسلح مزاحمت کے خلاف ریاست کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں؟تحریر: ڈاکٹر امداد بلوچ

 


سوراب میں لڑاکا طیاروں کا استعمال محض ایک عسکری کارروائی نہیں تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا جسے ریاست برسوں سے زبان پر لانے سے گریز کرتی آئی ہے کہ بلوچستان کا معاملہ اب امنِ عامہ کا مسئلہ نہیں رہا، ایک باقاعدہ مسلح تصادم بن چکا ہے۔

فضائی طاقت کے استعمال سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہدف بڑا ہو گیا ہے، بلکہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اُس علاقے میں پولیس، لیویز اور دوسرے روایتی اداروں کے ذرائع بےاثر ہو چکے ہیں، زمینی دستوں کو آمنے سامنے بھیجنے کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے اور فاصلے سے مارنے والی طاقت قریب جا کر پکڑنے والی طاقت کی جگہ لے رہی ہے۔ اس سے پہلے کھڈ کوچہ اور دوسرے علاقوں میں بھاری بکتربند گاڑیاں اور ٹینک آزمائے جا چکے ہیں۔ جیٹ طیاروں تک نوبت پہنچنا بتاتا ہے کہ جدید زمینی سازوسامان بھی وہ نتائج نہیں دے سکا جو ان جماعتوں کی بیخ کنی کے لیے درکار تھے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے۔ بلوچستان میں فضائی طاقت کا استعمال بذاتِ خود کوئی نئی بات نہیں۔ ستر اور اسی کی دہائی کے آپریشن میں بھی ہوائی جہاز اور گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے تھے، اور 2006 میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کی کارروائیوں کے دوران بھی فضا سے مار کی گئی۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ جہاز پہلی بار اڑے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے فضائی کارروائی مخصوص حالات میں، محدود پیمانے پر اور خاموشی سے کی جاتی تھی۔ آج اس کا پیمانہ اور تسلسل دونوں بدل چکے ہیں، اور یہ اتنے کھلے انداز میں ہو رہی ہے کہ اسے پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں رہا۔ جب کوئی ریاست اپنی سب سے بھاری صلاحیت کو معمول کا ہتھیار بنا دے، تو یہ خود اس بات کی گواہی ہوتی ہے کہ اُس کے باقی ذرائع کہاں تک پہنچ چکے ہیں۔

ہر ریاست کے پاس طاقت کے استعمال کی ایک سیڑھی ہوتی ہے۔ سب سے نیچے پولیس اور لیویز، اُس کے بعد نیم فوجی دستے، پھر باقاعدہ فوج، پھر توپخانہ اور بکتربند، پھر گن شپ ہیلی کاپٹر اور ڈرون، اور سب سے اوپر لڑاکا طیارے۔ اس سیڑھی پر ایک قدم اوپر جانا ہمیشہ کسی نہ کسی ناکامی کا اعتراف ہوتا ہے۔ یا تو نیچے والا ذریعہ کام نہیں دے رہا، یا اُسے مؤثر طریقے سے برتنے کی استعداد ہی موجود نہیں۔ پہلی صورت مسلح جماعتوں کی بڑھتی ہوئی سکت کا پتا دیتی ہے، دوسری ریاست کے اپنے ڈھانچے کی کمزوری کا۔

دنیا کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک محدود مسلح مزاحمت ریاستی بےصبری اور غلط حکمتِ عملی کے ہاتھوں بڑھتے بڑھتے روایتی جنگ میں ڈھل گئی۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی جدوجہد کا آغاز گوریلا لڑائی سے ہوا تھا اور انجام ایک باقاعدہ جنگ پر۔ ایک وقت وہ آیا کہ ٹائیگرز کے پاس اپنی بحری قوت تھی اور ہلکے جہازوں پر مشتمل اپنی فضائیہ بھی، جس نے 2008 میں کٹونائیکے کے فضائی اڈے پر بمباری کی۔ جواب میں سری لنکن فضائیہ نے مگ طیاروں سے مسلسل بمباری کی اور 2009 میں فوجی فتح حاصل کر لی۔ مگر اُس فتح کی قیمت یہ تھی کہ آخری مہینوں کی شہری ہلاکتیں دسیوں ہزار میں گنی گئیں، اور اقوامِ متحدہ کی تحقیقات آج تک سری لنکا کا پیچھا کر رہی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق نظرانداز نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچستان کا جغرافیہ اور اس کی آبادیاتی ساخت تامل ایلام، چیچنیا یا دیگر ایسے خطوں سے قطعاً مختلف ہے۔ اُن تمام مقامات پر فضائی بمباری تنہا فیصلہ کن نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ ایک بڑی زمینی نفری کے ساتھ آئی، جو نسبتاً محدود رقبے اور گنجان آبادی کے بیچ مستقل موجودگی قائم رکھ سکتی تھی۔ بلوچستان میں یہ شرط پوری ہوتی ہی نہیں۔ یہاں کی بکھری ہوئی آبادی اور سنگلاخ زمین میں یہ تصور ہی محال ہے کہ دو ڈویژن دستے بھی کسی ایک ضلع سے مسلح جماعتوں کو پسپا کر کے کچھ عرصہ اپنا تسلط قائم رکھ سکیں، جسے عسکری اصطلاح میں hold کہا جاتا ہے۔

صوبے کا رقبہ ملک کے چوالیس فیصد کے قریب ہے اور آبادی اُس پر دور دور تک پھیلی ہوئی۔ ایسے خطے میں مطلوبہ زمینی موجودگی پیدا کرنا انتظامی طور پر تقریباً ناممکن ہے۔ اور جہاں افرادی قوت پوری نہ پڑے، وہاں ریاستیں آتشی طاقت کو افرادی قوت کا بدل بنانے لگتی ہیں۔ فوجی نظریے میں یہ جانا پہچانا نمونہ ہے، اور اسے طاقت کی نہیں، کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ہوائی طاقت تباہ کر سکتی ہے، قابض نہیں ہو سکتی۔ جہاز ہدف پر بم گرا سکتا ہے، مگر سڑک نہیں کھول سکتا، بازار میں گشت نہیں کر سکتا، اپنے مخبر کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ مزاحمت کا اصل مقابلہ زمین پر مستقل موجودگی سے ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ فضائی طاقت اُسی وقت کارگر ہوتی ہے جب مقابل کے پاس ایسی قیمتی چیزیں ہوں جن کے چھن جانے کا خوف اُسے جھکنے پر مجبور کر دے، یعنی شہر، صنعتیں، بندرگاہیں، معیشت۔ مسلح مزاحمت کے پاس ان میں سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ جو چیز ریاستوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی ہے، وہ مسلح جماعتوں کو صرف بکھیر دیتی ہے، ختم نہیں کرتی۔

ایک اور پہلو بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے۔ جس لمحے ریاست لڑاکا طیارے میدان میں اتارتی ہے، وہ عملاً یہ تسلیم کر لیتی ہے کہ یہ ایک مسلح تصادم ہے۔ اس اعتراف کے ساتھ امتیاز اور احتیاط کے وہ سارے اصول خود بخود لاگو ہو جاتے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر جواب دہی بنتی ہے۔ اور یہیں سوراب کا معاملہ سب سے زیادہ سوال طلب ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ کارروائی مسلح جماعتوں کے خلاف تھی، مگر مقامی ذرائع اور حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس کی زد میں عام شہری آئے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

سوراب کی بمباری بتاتی ہے کہ تصادم کی شدت اور وسعت اُس مقام تک پہنچ چکی ہے جہاں معمول کے ذرائع ناکافی سمجھے جانے لگے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ نہیں کہ فضائی طاقت میدان میں آ گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ فضائی طاقت کے پاس اُس مسئلے کا کوئی حل ہے ہی نہیں جس کے لیے اُسے بلایا گیا ہے۔ جہاز مزاحمت کو منتشر کر سکتا ہے، دبا سکتا ہے، پیچھے دھکیل سکتا ہے، مگر وہ زمین پر ریاست کی موجودگی، شہری کا اعتماد اور شکایت کا مداوا فراہم نہیں کر سکتا۔ اور مزاحمت انہی تینوں کی غیر موجودگی سے جنم لیتی ہے۔

بہرحال، طیارے کا استعمال ایک تدبیری مجبوری ہے اور ہر وہ سال جو سیاسی حل کے بغیر گزرتا ہے، اگلے سال کی مجبوری خود پیدا کرتا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post