تربت( نامہ نگار) بلوچستان بارکونسل، مکران ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اورکیچ بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیاہے کہ کیچ پولیس کی مبینہ بھتہ خوری اورجرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کافوری نوٹس لیا جائے اور ایس پی کیچ اور ایس ایچ او جوسک تھانہ کا تبادلہ کیاجائے بصورت دیگر وکلاء تنظیمیں آئندہ سخت لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
ان خیالات کااظہار بلوچستان بارکونسل کے وائس چیئرمین جاڑین دشتی ایڈووکیٹ، مکران ہائی کور بار اور کیچ بار کے نمائندگان سنیئر وکلاء عبدالمجید شاہ ایڈووکیٹ، خلیل احمد لہڑی ایڈووکیٹ،رستم گچکی ایڈووکیٹ، کیچ بار کے جنرل سیکرٹری نیاز محمد ایڈووکیٹ، مکران ہائی کورٹ بار کے نائب صدر خلیف احمد دشتی ایڈووکیٹ ودیگر وکلاء نے تربت پریس کلب میں مشترکہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ جب سے لیویز پولیس میں ضم ہوچکی ہے کیچ میں امن وامان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے، پولیس نے خود کو عوام کے جان ومال کے تحفظ کے بجائے بھتہ خوری کیلئے وقف کیا ہواہے اور پولیس کا رویہ عام شہریوں، تاجروں، سفید پوش افراد اور وکلا کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے ایک حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایک معزز وکیل کے بیٹے سے موٹرسائیکل، نقدی اور موبائل فون لوٹے گئے، وکلا کے مطابق انہوں نے مبینہ ملزم کو ٹریس کرکے اس کا نام، پتہ اور لوکیشن جوسک تھانے کے ایس ایچ او کے حوالے کی، تاہم ان کا الزام ہے کہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر مسروقہ سامان کی برآمدگی اور فروخت کے معاملے میں غفلت برتی، وکلا نے دعویٰ کیا کہ مسروقہ موٹرسائیکل، موبائل فون پولیس نے بیچ دئیے، یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ تربت اور کیچ کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس سے رجوع کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پولیس غریب عوام کی ایف آئی آردرج کرانے کے بجائے مختلف حیلے بہانے بناکر انہیں ٹرخاتی ہے، غریب اور نادار افراد کے مقدمات شناختی کارڈ نہ ہونے کو جواز بنا کر درج نہیں کیے جاتے انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کا اندراج پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے اور کسی شہری کو انصاف کے حصول سے محروم نہیں کیا جا سکتا،ایف آئی آر درج نہ ہونے سے جرائم پیشہ عناصر کو چھوٹ مل جاتی ہے اور وہ قانون کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کیچ میں مبینہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں متعدد چیک پوسٹیں قائم ہونے کے باوجود اگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو رہی تو اس کی ذمہ داری متعلقہ پولیس حکام پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے مکران رینج کے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ڈی پی او کیچ اور ایس ایچ او جوسک تھانہ کا فوری تبادلہ کرکے ان کی جگہ پر ایماندار، قابل اور عوام دوست افسران تعینات کئے جائیں اوران کے خلاف انکوائری کرائی جائے اس کے علاوہ ضلع کیچ کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کی کارکردگی کا جائزہ لے کر انہیں جوابدہ بنایا جائے،وکلا رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج، شہریوں کی شکایات، تفتیشی نظام اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے جواب طلبی کی جائے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو سکے۔
انہوں نے 17اگست بروز پیر کوضلع کیچ کی تمام عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا،وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور پولیس اہلکاروں کے عدالتوں میں داخلے پر بھی احتجاجاً پابندی کا مطالبہ کریں گے،انہوں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر احتجاج کا دائرہ بلوچستان بھر تک وسیع کرتے ہوئے صوبے کی سطح پر عدالتوں میں پولیس کے داخلے کے خلاف احتجاج اور ہڑتال کی کال بھی دی جا سکتی ہے، انہوں نے ڈی آئی جی پولیس مکران ریجن اور ڈی سی کیچ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں نوٹس لیں اور ان معاملات کی چھان بین کرائیں۔
