مستونگ کے غیور بلوچ عوام کے ساتھ حکومت کے مسلسل ناروا ظالمانہ اور عوام دشمن رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔بی این پی



مستونگ ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ڈپٹی مرکزی سکریٹری و سابق ایم پی اے، پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی اور مرکزی سکر یٹری اطلاعات و سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں کھڈکوچہ اور مستونگ کے غیور بلوچ عوام کے ساتھ حکومت کے مسلسل ناروا ظالمانہ اور عوام دشمن رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے کھڈکوچہ اور مستونگ کے عوام کو مسلسل ہراساں کرنا، ان کے معاشی ذرائع کو نقصان پہنچانا اور انہیں اپنے ہی آبائی علاقوں سے نکل جانے کی دھمکیاں دینا حکومتی جبر اور عوام دشمن پالیسی کی واضح مثال ہے اپنی ہی سرزمین پر بلوچ عوام کو بے دخل کرنے کی دھمکیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی رہنماؤں نے کہا کہ باغات کے حوالے سے حکومتی حکام کی جانب سے "ہم باغات کاٹیں گے" جیسے بیانات انتہائی مضحکہ خیز، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت ہیں۔ یہ باغات محض درخت نہیں بلکہ بلوچ عوام کی نسلوں کی محنت، روزگار اور معاشی بقا کا ذریعہ ہیں۔ ان باغات کو ختم کرنے کی دھمکی غریب عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان، بالخصوص مستونگ اور کھڈکوچہ کے عوام کو معاشی مشکلات، تنگ دستی اور بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے دھمکیاں دینا اور ان کے روزگار کے ذرائع ختم کرنا حکومت کی ناکامی اور عوام دشمن سوچ کا ثبوت ہے بی این پی رہنماؤں نے واضح کیا کہ کھڈکوچہ اورمستونگ کے عوام کو مزید ہراساں کرنے، ان کے باغات ختم کرنے اور انہیں اپنی آبائی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوئی بھی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت فوری طور پر دھمکیوں کا سلسلہ بند کرے، عوام کو ریلیف فراہم کرے اور طاقت کے استعمال کے بجائے عوامی مسائل کے حل کی طرف توجہ دے تاریخ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہونے والی ان ناانصافیوں اور ظلم کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post