آزادی کے نام پر بھتہ وصولی کا سلسلہ جاری ہے کھٹ پتلی وزیر داخلہ ضیاء لانگو کا پریس کانفرنس دوران آزادی پسند مسلح تنظیموں پر کڑی تقید

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے کھٹ پتلی وزیر داخلہ  ضیاء اللہ لانگو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزادی پسند مسلح تنظیموں پر کڑی تنقید کرکے ان پر بڑی ڈھیٹائی سے الزام لگایا اور   کہا کہ قلات اور خالق آباد کے زمیندار خود گواہ ہیں کہ مسلح افراد ان سے بھتہ طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر نہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور نہ بلوچ عوام کی عزت و حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

ضیاء لانگو نے دعویٰ کیا کہ دہشتگردوں کی قیادت بھارت اور طالبان کے زیرِ اثر ہے اور پہاڑوں میں موجود نوجوانوں کو ورغلا کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ان عناصر کے بیانیے اور ’’میٹھی باتوں‘‘ میں نہیں آنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے بلوچ اور پشتون عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کے باعث عام شہریوں کے لیے بلوچستان میں سفر اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

انھوں  نے کہا کہ عوام خود فیصلہ کریں کہ جو عناصر عام شہریوں، زمینداروں اور مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں، کیا وہ واقعی بلوچستان کے عوام کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں۔

کھٹ پتلی وزیر داخلہ کے پریس کانفرنس کے جواب میں تاحال کسی مسلح تنظیم نے باضابطہ بیان نہیں دیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے انھیں آڑے ہاتھوں لیا ہے ان کا الزام ہے کہ گزشتہ روز اپنے قافلے پر خود حملہ کروایا تاکہ آئندہ الیکشن میں اپنا پوزیشن مضبوط کریں ،دوسری طرف انھوں نے کہاکہ
منگچر بازار نے شٹرڈاؤن کا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے، سکیورٹی خدشات کے نام پر 23 روز سے مسلسل بند رکھا گیا ہے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں ،دکاندار  مالی مشکالات کا شکار ہیں ۔
دوسری جانب شاپراہ پر چوریاں لوٹ مار عام ہوچکا ہے ،انھوں نے الزام لگایا کہ پہلے موصوف خود شاپراہ پر لوٹ مار کرتے تھے اب انکے بندے لوٹ مار بھتہ خوری میں مشغول ہیں ۔
بریکنگ نیوز
سیکیورٹی فورسز کا خاران لجے میں کامیاب انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد جہنم واصل، بھاگتے دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک محنت کش شہید

سیکیورٹی فورسز نے خاران کے علاقے لجے میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیا۔

کارروائی کے دوران 7 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جبکہ باقی ماندہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنے ٹھکانوں سے نکل کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے بچنے کے لیے سول آبادی کو ڈھال بنانے کی کوشش کی اور بھاگتے ہوتے ہوئے سول آبادی پر فائرنگ شروع کر دی۔جس کی زد میں آ کر ایک محنت کش، سلطان محمد ساسولی، شہید ہو گیا، جو کھیتوں میں محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کما رہا تھا۔

واضح رہے کہ دہشت گردوں نے اپنی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک اور بے گناہ کو شہید کردیا، جو بلوچ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔

کسی صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بلوچستان کی محرومیوں کے ذمہ دار تم جیسے چاپلوس ہو صرف پنجاب اور پنجابی کو خوش کرنے کے لیے اپنے بھائیوں کو زندانوں میں جھونک دیتے ہو تمہیں بلوچستان کی عوام سے کوئی سروکار نہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post