خاران ( نامہ نگار ) خاران ڈیجیٹل میڈیا سے وابسطہ صحافی کاشف بلوچ کو ڈکیتی کی خبر چلانے کی پاداش میں فون کالز کرکے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ نیوز رپورٹر کاشف بلوچ نے کہاہے کہ جمعرات کے روز خاران میں ڈکیتی کی رنگے ہاتھوں گرفتاری کی خبر گدروشیا پوائنٹ چینل پر چلانے کے بعد گزشتہ رات سے ہمیں نامعلوم موبائل نمبر سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ گالم گلوچ اور بدتمیزی کا سلسلہ عروج پر ہے۔ مذکورہ نمبر سے موصول ہونے والے میسجز کے مطابق، وہ مجھے اور میرے خاندان کو قتل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ ایسے عمل سے گریز کیا ہے جس سے کسی کی ذات، قوم، قبیلہ یا شخصیت متاثر ہو۔ تاہم، اگر دھمکیاں دینے والے اس بات پر خفا و سیخ پا ہیں کہ ہم نے خاران میں چوری کی خبر اور بندوں کے نام کیوں اجاگر کرکے میڈیا میں رپورٹ کیے ہیں، تو یہ عمل بطور فرزندِ خاران بھی میرا حق ہے اور بطور صحافی بھی میرا حق ہے۔ صحافی کا کام عوام تک اصل اور مستند خبر پہنچانا ہے، جبکہ مذکورہ گرفتار افراد بھرے بازار میں گرفتار ہوئے۔ درجن بھر شہریوں نے ویڈیوز بنائیں، اس لیے ان کی شناخت کسی بھی صحافی کے لیے چھپانا ممکن نہیں رہتا۔ باقی میں بلوچستان کی تمام صحافتی تنظیموں، کمشنر رخشان ڈویژن، ڈی آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر خاران، ایس پی پولیس، آل پارٹیز خاران اور بازار پنچائیت سے اپیل کرتا ہوں کہ اس نمبر کی شناخت کرائیں، اس کا کھوج لگائیں، جو چوری اور سینہ زوری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس لیے میں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میری اور میرے فیملی کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ میرا اور میری خاندان کا کسی سے بھی کوئی زاتی مسئلہ نہیں ہے تاہم، یہ خطرہ میں نے خاران کے عوام کو چوروں سے نجات دلانے کے لیے مول لیا ہے۔ عزت، ذلت، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اگر مجھے کچھ ہوا یا میرے خاندان کے کسی بھی فرد کو کچھ ہو گیا تو ذمہ دار یہی لوگ ہوں گے۔ نیز، کوئی بھی دوست، ساتھی، عزیز و اقارب یا سیاسی کارکن اس نمبر کے بارے میں شناسائی رکھتا ہو تو مجھے ضرور معلومات دیں تاکہ پوری گینگ بے نقاب ہو۔
