کوئٹہ ( نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال اور حکومتی دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق بیانات سے مختلف ہیں، اگر حالات قابو میں ہیں تو پھر تھانوں پر حملے اور بدامنی کے واقعات کیسے پیش آ رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز میں کہا کہ "وہ ایک چڑیا ہے، کہتا ہے کہ بلوچستان صرف ایک تھانے دار کی مار ہے، تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا۔"
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو صرف دعوؤں اور بیانات سے بہتر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ عوام کے تحفظ، امن کے قیام اور ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بلوچستان کی صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ بدامنی کے واقعات سے سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کو سیاسی انداز میں حل کرنے، عوامی شکایات سننے اور مؤثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان کے حوالے سے دعوے کیے جا رہے ہیں تو پھر ان دعوؤں کا عملی طور پر جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے مختلف سیاسی رہنما وقتاً فوقتاً اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ حکومتی نمائندے بھی امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کے بعد بلوچستان کی صورتحال، حکومتی کارکردگی اور امن و امان کے معاملات پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔
