خضدار ( نامہ نگار )
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر اور سابق رکنِ قومی اسمبلی میر رؤف مینگل نے بلوچستان کی تاریخی، سیاسی، تہذیبی اور جغرافیائی شناخت کو مسخ کرنے سے متعلق حکومتی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھوکھلی اور عوامی حمایت سے محروم قوتیں ہمیشہ اقتدار کے نشے میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنی اوقات بھول کر قومی روایات تک کو پامال کر دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی عظمت، بلوچ قوم کی ہزاروں سالہ تہذیب و تمدن اور تاریخی شناخت کو ہمیشہ کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسی تمام سازشیں ناکام رہی ہیں۔ تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور عوامی تائید سے بنتی ہے، نہ کہ مصنوعی اقتدار اور طاقت کے بل بوتے پربلوچستان کے سیاسی تناؤ کو انتظامی تقسیم یا نئے مفروضوں کی بنیاد پر کم نہیں کیا جا سکتا۔ قلات صرف ایک علاقے کا نام نہیں بلکہ بلوچ قومی ریاست، تاریخ اور شناخت کی علامت ہے۔ برطانوی استعمار بھی اس تاریخی حیثیت کو ختم کرنے میں ناکام رہا، تو آج کے درآمد شدہ اور عوامی حمایت سے محروم عناصر بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ قلات ڈویژن کا خاتمہ، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا اور وڈھ کے علاقوں کو بیلہ اور حب کے ساتھ ملانا ایسے فیصلے ہیں جو عوامی خواہشات کے بجائے غیر سیاسی بنیادوں پر مرتب کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات بلوچستان کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی کوشش ہیں اور کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ صرف مستونگ کی انتظامی حیثیت نہیں بلکہ بلوچ ریاست قلات کے تاریخی نام اور تشخص کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ جن لوگوں کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں، وہ تاریخ رکھنے والوں کی شناخت بھی برداشت نہیں کر پا رہے، لیکن ایسے فیصلے بلوچ قوم کی اجتماعی شناخت کو ختم نہیں کر سکتے۔بلوچستان کی تاریخی اہمیت موجودہ ریاستی انتظامی ڈھانچوں سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ یہ خطہ اپنی جدوجہد، قربانیوں اور منفرد جغرافیائی و جیوپولیٹیکل اہمیت کی وجہ سے دنیا میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ عجلت اور غیر سنجیدگی میں کیے گئے ایسے فیصلے زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو کب تک جعلی طرزِ حکمرانی کے ذریعے چلایا جائے گا؟ حقیقی عوامی نمائندگی سے محروم مصنوعی اقتدار مسلسل غلط اور غیر سنجیدہ فیصلے کر رہا ہے۔ ماضی میں بھی جعلی مینڈیٹ رکھنے والوں کے کئی انتظامی فیصلے عدالتی یا انتظامی بنیادوں پر واپس لیے جا چکے ہیں، لہٰذا موجودہ فیصلے بھی عوامی ردعمل کے سامنے برقرار نہیں رہ سکیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قلات ڈویژن اور دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے فوری طور پر واپس لیے جائیں، بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے طاقت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے، اور تمام فیصلے عوام کی خواہشات، تاریخی حقائق اور جمہوری تقاضوں کے مطابق کیے جائیں۔