بلوچستان خاتون سمیت تین افراد فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

 

کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مزید تین نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کم عمر طالبہ، ایک 11 سالہ طالب علم اور ایک محکمہ صحت کا ملازم بھی شامل ہے ۔ تینوں افراد کو مختلف علاقوں سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق 16 سالہ رضوانہ دختر گل جان، سکنہ مستونگ، جو فرسٹ ایئر کی طالبہ ہیں، کو 28 جون 2026 کی رات تقریباً 10 بجے کوئٹہ کے علاقے سریاب/سمنگلی روڈ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
دوسرے واقعے میں 11 سالہ چاکر ولد مجید مراد، سکنہ بلیدہ، ضلع کیچ، کو 17 جولائی 2026 کی شام تقریباً 8 بجے ان کے آبائی علاقے بلیدہ سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
اسی روز ایک اور واقعے میں 27 سالہ دلشاد بلوچ ولد نظر محمد، سکنہ ضلع کوہلو، جو بی ایچ یو میں بطور ویکسینیٹر خدمات انجام دے رہے تھے، کو 17 جولائی 2026 کی رات تقریباً ایک بجے ڈیرہ بگٹی کے علاقے بائیکر سے سرکاری امن فورس نے حراست میں لیاگیاتھا جنہیں بعد ازاں سی ٹی ڈی کے حوالے کیاگیا ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post