پنجگور(نامہ نگار )بلوچستان آل پارٹیز کی مشترکہ کال پر آج بلوچستان بھر کی طرح ضلع پنجگور میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے زیرِ اہتمام ایک بڑی احتجاجی ریلی اور مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ ریلی مختلف سیاسی جماعتوں کے دفاتر سے نکالی گئی اور شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی نیشنل پریس کلب پنجگور کے سامنے اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری میر نذیر احمد، نیشنل پارٹی کے رہنما کامریڈ مجیب الرحمٰن، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غفار شمبے زئی اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا بلوچستان بدامنی، بے یقینی اور عدم تحفظ کی لپیٹ میں ہے اور صوبہ عملاً "نو گو ایریا" بنتا جا رہا ہے۔
مقررین نے کہا کہ ژوب، چاغی، مستونگ، سوراب، خضدار، کوئٹہ اور پنجگور سمیت بلوچستان کا کوئی ضلع ایسا نہیں جہاں عوام خود کو محفوظ سمجھتے ہوں۔ نہ تاجر محفوظ ہیں، نہ ٹرانسپورٹر، نہ عام شہری، بلکہ اب پولیس اور ان کے اہلکار بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ جاری تھا اور اب یہی صورتحال پشتونوں کے ساتھ بھی پیش آ رہی ہے۔ ان کے بقول بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بے گناہ شہری مسلسل تشدد، قتل و غارت اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، مگر حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔
رہنماؤں نے زیارت میں پولیس اہلکاروں پر حملے اور ان کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان میں پولیس کے ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔
انہوں نے لیویز فورس کو بغیر کسی مؤثر منصوبہ بندی کے پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پولیس کو جن مشکلات اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، وہ اسی غیر منصوبہ بند فیصلے کا نتیجہ ہے۔ مقررین نے کہا کہ درجنوں پولیس اہلکار شہید کر دیے گئے، مگر ان کی لاشیں اٹھانے کے لیے بھی کوئی ذمہ دار حکومتی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ لواحقین اپنے پیاروں کی لاشیں ویگنوں، بسوں اور اپنی ذاتی گاڑیوں کے ذریعے گھروں تک لے جانے پر مجبور ہوئے، جو حکومت کی بدترین ناکامی اور انتہائی افسوسناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید اہلکاروں کے لواحقین قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کے مطالبے کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے کوئٹہ میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر افسوس کہ نہ صوبائی حکومت کا کوئی ذمہ دار نمائندہ اور نہ ہی وفاقی حکومت کا کوئی عہدیدار ان کے پاس جانے کی زحمت کر سکا، جو انتہائی شرمناک اور افسوسناک طرزِ عمل ہے۔
اپنے خطاب میں مقررین نے موجودہ صوبائی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، جو عوامی مینڈیٹ سے نہیں بلکہ چور دروازے سے اقتدار میں آئی ہے۔ ان کے مطابق عوام کی حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے باعث حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پورا بلوچستان بدامنی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز مسافر بس پر حملہ اور بے گناہ شہریوں کو زخمی کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
مقررین نے کہا کہ جب تک بلوچستان میں عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا اور حقیقی عوامی حکومت قائم نہیں ہوتی، اس وقت تک صوبے میں امن و امان کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
آخر میں آل بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں ۔
