کراچی ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور کراچی ڈویژن کے صدر حمید ساجنا نے اپنے ایک بیان میں 15، جولائی یوم شہدائے بلوچستان کے موقع پر بابائے بلوچستان نواب بابو نوروز خان شہید اور اُنکے بیٹوں اور ساتھیوں کی شہادت پر انہیں خراج تحسین اور سُرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سے 66 سال پہلے جب بلوچستان میں جنرل ایوب کی سیاہ ترین آمریت میں بلوچستان میں فوجی کاروائی کے ذریعے بلوچ قوم کا قتل عام جاری تھا اُس وقت بزرگ رہنماء نواب بابو نوروز خان نے اپنے بیٹوں اور ساتھیوں کے ہمراہ بلوچوں کی فطری ردّعمل کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ سنگلاخ کی چٹانوں کا رخ کیا جس کی وجہ سے ریاستی فورسز کو شدید نقصان اُٹھانا پڑا اِسی نقصان اور حزہمیت کو مٹانے کیلئے انہوں قرآن پاک کا واسطہ اور قسم دیکر نواب بابو نوروز اور ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے اتار کر جنگ بندی اور تمام مطالبات ماننے کا جھانسہ دیا مگر سچّے اور سادہ لوح بلوچ جنگجوؤں کو نیچے اتار کر فوراً گرفتار کر کے پابند سلاسل کیا گیا اور انہیں مختلف جیلوں میں قید کیا گیا ۔
اور بعدازاں بٹےخان سبزل خان سمیت بابو نوروز خان کے بیٹوں اور ساتھیوں کو جن کی تعداد سات تھی انہیں حیدرآباد اور دیگر جیلوں میں پھانسی دیکر شہید کیا گیا اور ان کی لاشوں کو بغیر کفن کے پھینک دیا گیا بعد میں تالپور خواتین نے اپنی چادروں کو ڈال کر اِن عظیم بلوچ سپوتوں کو بے حرمتی سے بچایا ریاست کی ظلم اِس پھانسیوں کے بعد بھی ختم نہیں ہوسکی اور انہوں نے بزرگ نواب بابو نوروز خان کو جیل میں اذیت دیکر شہید کیا گیا ۔
پاکستان میں بلوچوں کی غلامانہ تاریخ جتنی طویل ہے اتنی ہی قربانیوں اور مقابلہ کرنے کی بھی تاریخ طویل ہے آج پورا بلوچستان 15, جولائی کا دن مناکر عملی طور پر اِس طویل جدوجہد کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہے ہیں انشاءاللہ یہ ظلم اور جبر پر کھڑی ریاست ناصرف زمین بوس ہو جائے گی بلکہ آزادی اور خوشحالی کا پرچم بھی ضرور بلند ہوگا ۔
