بلوچستان بی این پی رہنماء قتل احتجاج جاری ،سبی سے سابقہ خاتون ایم پی کی والد ،مستونگ سے نوجوان ،تربت سے مزدور اغوا ،منگچرکا رہائشی مغوی خاتون بازیاب

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارٹی ورکر عارف مینگل کو قتل کردیا۔
فائرنگ کا واقعہ کوئٹہ کے علاقے ویسٹرن بائی پاس پر پیش آیا، جس کے خلاف لواحقین اور پارٹی کارکنوں نے ویسٹرن بائی پاس پر دھرنا دے دیا۔
یاد رہے کہ کوئٹہ و بلوچستان کے دیگر علاقوں میں اس سے قبل بھی بی این پی مینگل رہنماء اور ورکر قتل ہوئے، جہاں پارٹی کی جانب سے کارکنان و پارٹی ذمہ داران کے قتل کا الزام ریاستی سیکورٹی فورسز اور مقامی ڈیتھ اسکواڈز پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔
سبی  بختیارآباد میں نیشنل پارٹی کی سابق ایم پی اے یاسمین لہڑی کے والد مبینہ طور پر اغوا
نیشنل پارٹی کی سابق رکن بلوچستان اسمبلی یاسمین لہڑی کے والد نور احمد لہڑی کو ضلع بختیارآباد کے قریب ان کے آبائی گاؤں موضع حسین آباد سے نامعلوم مسلح افراد مبینہ طور پر رات گئے اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نور احمد لہڑی کو ان کی رہائش گاہ سے اپنے ہمراہ لے گئے تاہم اغوا کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب نیشنل پارٹی نے نور احمد لہڑی کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا


۔

ضلع مستونگ کے علاقے پیرکانو کے رہائشی نور اللہ ولد سعد اللہ تقریباً ایک ہفتہ قبل جبری لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ایف سی کیمپ طلب کیا گیا تھا، تاہم وہاں جانے کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق نور اللہ مقررہ وقت پر ایف سی کیمپ جانے کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوئے تھے، لیکن اس کے بعد نہ صرف ان سے رابطہ منقطع ہو گیا بلکہ ان کی گاڑی کا بھی تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف مقامات پر تلاش کے علاوہ متعلقہ حکام سے بھی رابطہ کیا، تاہم اب تک انہیں نور اللہ کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

دشت بل نگور میں اسکول کی تعمیراتی منصوبے پر کام کرنے والے ایک مزدور کو نامعلوم مسلح افراد مبینہ طور پر اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار شیر مراد کے زیرِ نگرانی اسکول کے تعمیراتی کام جاری تھے کہ اسی دوران نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اسلحے کے زور پر ٹھیکیدار کے ایک کارکن اللہ بخش ولد لعل بخش، سکنہ بل نگور کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے اور موقع سے فرار ہوگئے۔

منگچر کی رہائشی خاتون نواب شاہ سے اغواء ہونے کے بعد قبائلی معتبرین کی کوششوں کے بعد بازیاب کرا لی گئیں اور اغوا کار کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا. تفصیلات کے مطابق ریلیز منگچر کی رہائشی مسماۃ ق دختر غلام رسول سمالانی علاج کی غرض سے نواب شاہ گئی تھیں، جہاں سے انہیں اغوا کر لیا گیا۔جس پر سمالانی قبائل کے معتبرین میر ریحان خان سمالانی اور ٹکری محمد ایوب سمالانی کی کوششوں سے نواب شاہ سے ملحقہ علاقے سے خاتون بازیاب کرا لی گئیں مغویہ کی بحفاظت بازیابی کے بعد اغواء کار مولوی یوسف کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا. مغویہ کی بازیابی میں تعاون کرنے اور اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے پر میر ریحان سمالانی نے نواب شاہ اور دیگر علاقوں کے ان تمام معززین اور عمائدین کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں تعاون کیا.

Post a Comment

Previous Post Next Post