تربت ( نامہ نگار ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماءسید بی بی شریف نے تربت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ شب محکمہ انسداد دہشتگردی نے ان کی رہائش گاہ پر تین مرتبہ چھاپے مارے، گھر کے دروازے توڑے اور گھر کے سامان کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ شاہ کو دی گئی عمر قید کے خلاف تربت میں احتجاجی ریلی کا اعلان کیا گیا تھاجس کے بعد انہیں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور ایک پورا دن وومن تھانہ میں قید رکھا گیا، ان کے مطابق، انہیں گزشتہ رات رہا کیا گیا، تاہم رہائی کے صرف آدھے گھنٹے بعد دوبارہ ان کی گرفتاری کے لیے اطلاع دی گئی۔
سید بی بی شریف نے کہا کہ مسلسل گرفتاری کے خدشے اور چھاپوں کے باعث ان کے کمسن بچے شدید خوف و ہراس کا شکار ہوگئے جس کے باعث انہیں رات کے وقت گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان کے بقول، کسی نے انہیں پناہ نہیں دی جس کے نتیجے میں وہ اپنے دو معصوم بچوں کے ہمراہ پوری رات قبرستان میں اپنے مرحوم شوہر کی قبر کے سرہانے گزارنے پر مجبور ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا نام پہلے سے فورتھ شیڈول میں شامل ہے اور وہ باقاعدگی سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی تھانے میں پیشی دیتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سی ٹی ڈی کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے تو میں ایک دن بھی غیر حاضر نہیں رہی اس کے باوجود مجھے اور میرے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ان کا جرم کیا ہے اور کس قانون کی خلاف ورزی کی بنیاد پر انہیں اور ان کے بچوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ شب ان کی گرفتاری کے لیے نہ صرف ان کے گھر بلکہ ان کی ضعیف والدہ، بیمار بھائی اور ہمسایوں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
سید بی بی شریف نے اعلان کیا کہ وہ پریس کانفرنس کے فوراً بعد دوبارہ سی ٹی ڈی تھانے جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں گرفتار یا لاپتہ کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری تربت پولیس اور سی ٹی ڈی پر عائد ہوگی۔
