خضدار / سوئی ( نامہ نگار )
جھالاوان کمپلیکس اور سبزی منڈی کے قریب دو لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج جاری کوئٹہ کراچی کے درمیان مرکزی شاہراہ بلاک کر دی ہے احتجاج میں خواتین، بچے اور بزرگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے.
خضدار شہریوں نے مبینہ آغا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کراچی،کوئٹہ قومی شاہراہ (آر سی ڈی روڈ) کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
شاہراہ کی بندش سے مسافر، ٹرانسپورٹرز اور دیگر شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب سکھر محمد عمر ولد کرمان بگٹی کو گزشتہ روز 1 جولائی 2026 کوسندھ کے شہر سکھر سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی سے تعلق محمد عمر بگٹی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے پیارے کو سکھر کے مویشی منڈی سے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مال مویشی کا کاروبار کرتا ہے اور اسی سلسلے میں سکھر مویشی منڈی گیا تھا جہاں سے اسے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

