ایک 70 سالہ معذور سردار کو گریبان سے پکڑا گیا اور ان کے سامنے ان کے جوان بیٹے کو گولیاں مار دی گئیں۔اختر مینگل

 


اسلام آباد( نامہ  نگار )  بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان میں ریاستی اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ زہری میں پیش آنے والے واقعے میں ایک 70 سالہ معذور سردار کو گریبان سے پکڑا گیا اور ان کے سامنے ان کے جوان بیٹے کو گولیاں مار دی گئیں۔اختر مینگل کا ہڈیاں جھنجھوڑ دینے والا انکشاف,
انھوں نے کہاکہ ریاست کا چہرہ آج ایک درندے کا چہرہ ہے۔ درندے کا کام
کیا ہے؟ معصوم کو نوچنا۔ عزت پامال کرنا۔ جان لینا۔ اور لاش کو گندگی میں پھینک دینا۔ قانون سے بے خوف، انسانیت سے عاری ہے ۔
یہی کچھ آج بلوچستان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ اس کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ اور اب اس پر موت کے فرشتے یعنی ڈیتھ اسکواڈ کی شکل میں مسلط کر دیے گئے ہیں

سردار مینگل نے کہاکہ
بلوچستان کے مختلف شہروں میں ڈیتھ اسکواڈز سرگرم ہیں۔ انہیں سرکاری اسلحہ اور بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ گاڑیاں پاکستان کا پرچم لگا کر وارداتیں کرتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہاکہ گویا بلوچستان کو جان بوجھ کر جلایا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کو باقاعدہ سرگرم رکھا گیا ہے۔ انہیں سرکاری سہولیات دی گئی ہیں۔
انہیں اسلحہ دیا گیا ہے۔ انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ جسے چاہیں جہاں چاہیں موت کی گھاٹ اتار دیں۔یعنی بلوچستان جل رہا ہے۔ اور اس آگ میں گھی ڈالنے والے کوئی اور نہیں، ریاست کے اپنے پروردہ "Death Squads" ہیں۔ یہ تو انتہائی خوفناک عالم ہے

Post a Comment

Previous Post Next Post