کوئٹہ ( نامہ نگار ) نوشکی کے علاقے غریب آباد اور گردونواح میں گزشتہ روز گھر گھر تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق عصر کے وقت پاکستانی فورسز نے غریب آباد میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد، جن میں بزرگ اور نوجوان شامل ہیں، کو حراست میں لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نمازِ عصر کے وقت ایک مسجد سے جماعت کے لیے آنے والے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ مسجد کے امام کو مبینہ طور پر چھوڑ دیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق تلاشی کے دوران گھروں سے حراست میں لیے گئے افراد کو غریب آباد قبرستان کے قریب جمع کیا گیا، جہاں سے انہیں ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔
علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام زیرِ حراست افراد کی فوری اور باعزت رہائی کا مطالبہ کیا ۔
بلوچستان کے ضلع کیچ کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کی جانب سے آج صبح سے آپریشن کی جارہی ہے جن میں گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ سمیت ڈرون حملے شامل ہیں۔
آج صبح سویرے زامران کے علاقے جالگی اور گردونواح میں پاکستان فوج نے آپریشن کا آغاز کیا جس میں پیدل اہلکاروں کی بھاری تعداد حصہ لے رہی ہے جبکہ انہیں فضائی کمک حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق گن شپ ہیلی کاپٹروں سے مختلف مقامات پر شیلنگ کی گئی جبکہ کواڈ کاپٹر سے گولے گرائے گئے ہیں۔ تاہم نقصانات کے حوالے سے تاحال اطلاعات موصول نہیں ہوسکی ہے۔
دریں اثناء بلیدہ میں ڈرون طیارے سے حملے کی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے حکام نے تاحال کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔
دوسری جانب کچھی کے علاقے سنی میں پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے مابین جھڑپیں جاری ہے قبل ازیں مذکورہ علاقے میں فورسز کی ایک گاڑی کو بھی دھماکے میں نشانہ بنایا گیا ہے
علاوہ ازیں دالبندین کے علاقے نوکچا کے مقام پر دو روز قبل مسلح افراد نے 5 بوزرز اور ٹریلرز کو جلا دیا تھا جس کے بعد جلائے گئے بوزرز اور ٹریلرز کے مالکان اپنی گاڑیوں کا ملبہ اٹھانے کے لئے پہنچے تو مسلح افراد نے گاڑی مالکان سمیت پانچ افراد کو اغواء کرکے لے گئے۔
