کوئٹہ ( نامہ نگار ) کوئٹہ واقعہ کا دوسرا رخ سوشل میڈیا پر وائرل حقیقت کیا ہے اب
اصل واقعے پر جان بوجھ کر پردہ ڈالا جا رہا ہے,اہم انکشاف سامنے آگیا ۔
کراچی سے آنے والے مقتول کو پہلے "دشت میں بھٹکا ہوا سیاح" اور "گوگل میپ کا شکار" بنا کر اپنے کیے پر مٹی ڈالی گئی۔ اب خبریں آرہی ہے کہ وہ #نان_کسٹم پیڈ موبائلوں کا کاروبار کرتا تھا۔
بتایا جا رہا ہے کہ وہ چیک پوسٹوں سے بچنے کے لیے مین شاہراہ چھوڑ کر اندرونی راستے پر سفر کررہاتھا۔اہلکاروں کو شک ہوا، پیچھا کیا، اور گاڑی کی پچھلی سائیڈ سے گولیاں مار دیں۔
یعنی قتل سیکورٹی اہلکاروں نے کیا... اور الزام بلوچوں کے سر ڈال کر دنیا کے سامنے بلوچ کو بدنام اور وحشی پیش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ۔
اور پھر یہ جھوٹی کہانی گھڑ دی گئی۔ فورسز نے یہ ڈرامہ بلوچستان میں مزید خون کی ہولی کھیلنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے رچایا گیا؟
آپ کو علم ہے ان دنوں 50 ڈگری کی تپتی گرمی میں بلوچستان میں سیاحت کون کرتا ہے اور وہ بھی ایسے علاقے میں جہاں انٹرنیٹ بند، سگنل غائب؟ جب سگنل غائب تھا پھر گوگل میپ کی "غلطی" کیسے ہو گئی؟
پشتون اور بلوچ وطن میں ایسے ہزاروں واقعات کے پیچھے انھی "نامعلوم" لوگوں کا ہاتھ ہے مگر دنیا کے سامنے بلوچ پشتون کو بدنام کیا گیا ۔