جبری لاپتہ حبیبہ پیر جان کو ریاستی اداروں نے لاپتہ کیا، گھر پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، بیٹیِ

 


کراچی ( نامہ نگار) سے جبری گمشدگی کا شکار بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر جان کی بیٹی نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی والدہ کو ریاستی فورسز نے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئی تھیں، جس کے بعد سے وہ منظرِ عام پر نہیں آسکی ہیں۔

لاپتہ بلوچ خاتون شاعرہ کی بیٹی کے مطابق والدہ کی جبری گمشدگی کے بعد فورسز کے اہلکار مسلسل ان کے گھر آ رہے ہیں اور ان کے موبائل فونز و دیگر ذاتی آلات اپنی تحویل میں لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ والدہ کی جبری گمشدگی میں ملوث ریاستی اہلکار انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی جانب سے ان کی والدہ کے حوالے سے فیک اکاؤنٹس اور نامعلوم میڈیا کے ذریعے مختلف جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، ان کے بقول، ان کی والدہ کو اس سے قبل بھی ریاستی اداروں نے لاپتہ کیا تھا۔
حبیبہ پیر جان، جو بلوچی زبان کی ایک شاعرہ ہیں، کو 25 مئی 2026 کی رات پاکستانی فورسز کے اہلکار مبینہ طور پر گلشن مزدور، تھرڈ اسٹریٹ، بلدیہ ٹاؤن، نیول کالونی کے قریب واقع ان کے گھر میں داخل ہوئے، توڑ پھوڑ کی اور انہیں اپنے ہمراہ لے گئے۔
بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر جان کو اس سے قبل بھی 22 مئی 2022 کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا تھا، تاہم انہیں تین روز بعد رہا کردیا گیا تھا۔
اہلِ خانہ نے حبیبہ پیر جان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے یا فوری طور پر رہا کیا جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post