کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں پاکستانی فوج کی جارحیت کے دوران میر خلیل موسیانی اور عمیر سمالانی کے قتل عام پر بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئر ڈاکٹر نسیم بلوچ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی کی بھیانک تسلسل قرار دیا ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ زہری سے سامنے آنے والی رپورٹس گہرے دکھ اور تکلیف کا باعث ہیں ۔ پاکستانی فوجی دستوں نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر آپریشن کیا، جس میں لڑاکا جہاز، ڈرونز اور زمینی فوجی شامل تھے، جس کے نتیجے میں میر خلیل احمد موسیانی اور عمیر احمد سُمالانی جاں بحق ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ زہری کو اگست 2025 سے مختلف سطحوں پر کرفیو کا سامنا ہے۔ اس خطے کے لوگ اب بھی اپنی روزمرہ زندگیوں میں شدید پابندیوں کا شکار ہیں، جس میں صحت، تعلیم، نقل و عمل اور روزگار تک محدود رسائی شامل ہے۔ یہ پورے علاقے کی اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔آج کے آپریشن کے دوران کئی مقامی افراد کو جبراً لاپتہ کر دیا گیا اور انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا۔
چیئرمیں نے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ ہم ان اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہوں اور بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بلوچستان میں خراب ہوتی صورتحال پر فوری توجہ دیں۔ ایسے ظلم و ستم کے سامنے خاموش رہنا صرف مجرموں کو ہمت دیتا ہے۔
اسی طرح بی این ایم کے دیگر ہنماوں کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اپنے جاری بیانات میں کہا ہے کہ زہری میں قابض پاکستانی ریاستی فورسز کی جارحیت، بلبل میں سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر فورسز کا دھاوا، سردار زادہ میر خلیل موسیانی کا قتل، سردار نصیر احمد موسیانی سمیت اس کے عزیزوں کی گرفتاری، اور عمیر سمالانی کا قتل واضح طور پر ریاستی دہشتگردی کے واقعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سردار نصیر موسیانی ایک شریف النفس، قوم دوست، عوام دوست قبائلی اور سیاسی شخصیت ہے۔ اس کی گرفتاری اور اس کے فرزند میر خلیل احمد موسیانی کا قتل اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجابی استعماری فوج اور کرایہ کے قاتلوں پر مشتمل فرنٹیئر کور کے نزدیک بلوچ عوام کے جان و مال، اور بلوچ اکابرین کے عزت و آبرو کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
بی این ایم رہنماوں نے کہا ہے کہ زہری کی طرح مشکے سے بھی اطلاعات ہیں کہ وہاں بھی پنجابی استعماری فوج کرفیو لگا کر نہ صرف لوگوں کی آزادانہ نقل حرکت کا حق چھین چکی ہے بلکہ انھیں فاقہ کشی پر مجبور کر رہی ہے۔ لوگوں کے فصلات، باغات اور مال مویشی کرفیو کے باعث شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں، تنظیموں، اور عوام کو چاہیئے کہ خوفزدہ ہونے کے بجائے استعماری فوج کی ان جارحیت کے خلاف گھروں سے نکل کر احتجاج کریں۔
