بلوچستان کی سنگلاخ زمین ایک بار پھر خون سے رنگین ہوئی۔ کراچی سے سیاحت کی غرض سے آنے والی ایک فیملی راستہ بھٹک کر دشت کے علاقے کی طرف جا نکلی۔ وہاں ان کی آلٹو گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ شوہر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، بیوی شدید زخمی ہیں جبکہ ان کی دو ننھی بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔ تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
یہ سانحہ یقیناً دل دہلا دینے والا ہے۔ ایک بے گناہ جان کا ضیاع صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جیسے ہی بلوچستان میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہےمیڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک شور برپا ہو جاتا ہے۔ پھر بلوچستان اس کے لوگوں اس کی روایات اور اس کی مہمان نوازی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ طنز کے تیر چلتے ہیں تمسخر اڑایا جاتا ہے اور برسوں سے قائم ایک تہذیب کو چند لمحوں میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے"بلوچ تو بڑے مہمان نواز ہوتے تھے، پھر انہیں کیا ہو گیا کہ اب مہمان بھی محفوظ نہیں رہے؟"
مگر شاید یہ سوال ادھورا ہے۔
اسی دن جب یہ سیاح جان سے گیا کوئٹہ کے مشہور کابل ریسٹورنٹ کے مالک کو بھی نامعلوم افراد نے ویگو گاڑی سے آ کر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ جب میزبان خود اپنی جان کی ضمانت نہ رکھتا ہو تو مہمان کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی؟
یہاں تو روز لاشیں گرتی ہیں۔ کبھی تربت کبھی پنجگور،کبھی نوشکی، کبھی بولان کبھی کوئٹہ روزانہ لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں پھر مسخ شدہ لاشیں پھینک دیئے جاتے ہیں
فرق صرف اتنا ہے کہ مقامی لوگوں کے جنازے اکثر قومی بحث کا حصہ نہیں بنتے
اہلِ بلوچستان سے شکوہ کرنے سے پہلے یہ سوال بھی تو اٹھنا چاہیے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر ایک پورا خطہ مسلسل عدمِ تحفظ کا شکار ہو، اگر مقامی باشندے خود خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہوں، تو اصل سوال ان ذمہ دار اداروں سے ہونا چاہیے جن پر امن قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے۔
درد کی کوئی قومیت نہیں ہوتی، نہ خون کا کوئی مسلک یا زبان۔ سیاح کا قتل بھی اتنا ہی المناک ہے جتنا کسی بلوچ، پشتون، پنجابی، سندھی یا سرائیکی کا۔ مگر انصاف تب مکمل ہوگا جب ہر جان کو برابر کی اہمیت دی جائے، ہر مقتول کے لیے ایک جیسا دکھ محسوس کیا جائے، اور ہر واقعے پر ایک جیسے سوال اٹھائے جائیں۔
بلوچستان کو صرف حادثات لاشوں اور خون کے ذریعے مت پہچانیے۔ اس سرزمین میں آج بھی محبت ہے روایت ہے غیرت ہے مگر ایک طویل عدمِ تحفظ نے اس کے باسیوں کو بھی اسی آگ میں جھونک دیا ہے جس میں آج ایک مہمان کا خاندان جل گیا۔
درد اگر سچا ہو تو وہ نفرت نہیں بانٹتا، بلکہ انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔
