خضدار کوشک کی رہائشی بیوہ خاتون اپنے بچوں اور بوڑھی والدہ کے ہمراہ پریس کلب پہنچ گئیں، کہا کہ علی احمد گزگی اور دیگر نے انکے گھر پر حملہ کرکے بچوں کو بالو سے پکڑ کر گھسیٹا اور کہاکہ گھر خالی کرو اس سے قبل انکے شوہر کو قتل کردیئے ، جب سٹی ایس ایچ او پاس فریاد لیکر گئی تو نہ صرف ملزمان کے کہنے پر ہماری ایف آئی آر درج نہیں کررہی ہے بلکہ ملزمان کے ساتھ تعاون بھی کر رہی ہے
خضدار(مانیٹرنگ ڈیسک)خضدارکوشک کے رہائشی بیوہ خاتون اپنے بوڑھی والدہ اور معصوم بچوں کے ہمراہ خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ ظلم و زیادتی کی دردناک داستان بیان کی متاثرہ خاتون نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث ان کا گھر مکمل طور پر منہدم ہوگیا تھاحکومت کی جانب سے متاثرین کو ملنے والی امدادی رقم سے وہ اپنے یتیم بچوں کے سہارے دوبارہ گھر تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی تھیں ان کے مطابق وہ چند مزدوروں کے ساتھ تعمیراتی کام میں مصروف تھیں کہ اچانک تقریباً پچیس افراد پر مشتمل ایک گروہ نے ان پر دھاوا بول دیاخاتون نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے کمسن بچوں اور بچیوں کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی معصوم بیٹیوں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، مارا پیٹھا گیا اور ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے، جس سے وہ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہو گئی ہیں متاثرہ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ مذکورہ افراد کو بااثر شخص عزیز عمرانی کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے، جس کی وجہ سے انہیں انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد جب وہ قانونی کارروائی کے لیے پولیس تھانے پہنچیں تو ان کی درخواست سننے کے بجائے انہیں مبینہ طور پر دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا گیاان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے پریس کانفرنس کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والی ایک طالبہ بیٹی نے اپنے جسم پر موجود زخم میڈیا نمائندوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ’’میری حالت سب کے سامنے ہے، آخر ہمیں انصاف کب ملے گا؟‘‘ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور اس کے امتحانات جاری ہیں، مگر شدید صدمے اور جسمانی تکالیف کے باعث وہ امتحانات میں شرکت سے محروم ہو رہی ہےمتاثرہ خاندان کی دوسری بیٹی نے مبینہ حملہ آوروں کے نام لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عبد الرحیم شیخ وحید شیخ حامد علی علی احمد گزگی، راشد علی نعمان منظور احمد گزگی، وسیم منظور زیب گزگی سلمان گزگی اور نثار سمیت دیگر افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا، تشدد کیا اور بعد ازاں انہی افراد نے ان کے خلاف ایک مبینہ جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کرا دی انہوں نے مزید کہا کہ ان پر یہ بے بنیاد الزام بھی لگایا گیا ہے کہ حملہ آوروں کی موٹر سائیکل ان کے قبضے میں ہے، حالانکہ اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں متاثرہ بیوہ خاتون نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس کے اعلیٰ حکام اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کو ختم کیا جائے، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ملوث افراد کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انہیں اور ان کے بچوں کو انصاف اور تحفظ فراہم ہو سکے۔
۔
