خضدار کے علاقے زہری میں فوجی آپریشن، مقامی سیاسی رہنما میر خلیل احمد موسیانی جاںبحق

 


خضدار ( نامہ نگار ) بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں منگل کے روز پاکستانی فورسز کے ایک بڑے آپریشن کے دوران مقامی سیاسی رہنما اور یونین کونسل کے منتخب رکن میر خلیل احمد موسیانی جاں بحق ہوگئے، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع اور خاندان کے افراد کے مطابق صبح کے وقت علاقے میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئیں جبکہ بعد ازاں بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل پاکستانی فورسز کی بھاری نفری بلبل زہری میں داخل ہوئی۔ علاقے میں فائرنگ اور تلاشی کی کارروائیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران موسیانی قبیلے کے سربراہ اور سابق ضلعی ناظم خضدار سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا، جہاں میر خلیل احمد موسیانی گولی ماری گئی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں زخمی حالت میں اپنے ساتھ لے جایا گیا تھا، بعد ازاں ان کی موت کی اطلاع دی گئی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں اپنے مقامی رہنما میر خلیل احمد موسیانی کی قتل اور ان کی میت اہل خانہ کے حوالے نہ کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ کارروائی کے دوران بی این پی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور سابق ضلعی ناظم خضدار سردار نصیر احمد موسیانی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
پارٹی کے مطابق زیر حراست افراد میں میر زہری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، ارشاد احمد اور دیگر شامل ہیں، جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔
بی این پی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ بلبل کراس کے ایک اسکول کو حراستی مرکز اور کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ علاقے میں نافذ کرفیو اور عوامی مقامات پر پابندیوں کے باعث مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سردار نصیر احمد موسیانی اور ان کے خاندان کا تعلق جمہوری سیاست سے ہے اور انہوں نے ہمیشہ آئینی اور سیاسی ذرائع سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ پارٹی کے مطابق میر خلیل احمد موسیانی بی این پی کے ضلعی سینئر نائب صدر اور منتخب یونین کونسلر تھے۔
بی این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ میر خلیل احمد موسیانی کی میت فوری طور پر ان کے ورثا کے حوالے کی جائے، تمام زیر حراست افراد کو رہا کیا جائے یا انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
بلوچستان کئی دہائیوں سے آپریشنز کا مرکز رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ماضی میں بھی بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات اٹھاتی رہی ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران بلبل کراس کا اسکول اور دیگر عمارتیں بطور فوجی کیمپ استعمال کی جارہی ہیں۔ جبکہ علاقے میں آمدورفت پہ مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post