کوئٹہ ( نامہ نگار ) کوئٹہ کے علاقے سریاب سے 21 سالہ عادل بلوچ ولد محمد شریف، جو مزدوری کے پیشے سے وابستہ تھا، کو 6 جون 2026 کی رات تقریباً 1:00 بجے حراست میں لیا گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
دوسرا واقعہ 14 جون 2026 کو چاغی کے علاقے دالبندین سے رپورٹ ہوا، جہاں 18 سالہ عبید بلوچ ولد عبد الظاہر نوتیزئی، جو مزدور ہے، کو شام 6:30 بجے حراست میں لیا گیا۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
