حب چوکی (پریس ریلیز )
بلوچستان میں سیاسی و عوامی قیادت کو جھکانے اور دباؤ میں لانے کے لیے پاکستان کی عسکری حکام کی جانب سے ان کے قریبی خاندانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی میں شدت آ گئی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے مرکزی چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد اور دو چچا کو پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے 4 ماہ قبل جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنظیم کی طرف سے جاری کیے گئے ایک باقاعدہ بیان اور پوسٹرز کے مطابق، یہ واقعہ رواں سال 2 فروری کو بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں پیش آیا۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق پاکستانی فوج اور پولیس کے محکمے سی ٹی ڈی نے حب چوکی میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی کے دوران ان کے والد محمد بخش ساجدی، اور ان کے دو چچا محمد رفیق بلوچ اور محمد نعیم ساجدی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کو 4 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تاحال ان کے ٹھکانے، صحت یا زندگی کے حوالے سے خاندان کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور وہ خفیہ ٹارچر سیلز میں زیرِ حراست ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے مطابق، یہ واقعہ بلوچستان میں جاری اس وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس کے تحت سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور بی وائی سی (BYC) کے ارکان کو خاموش کرانے کے لیے ان کے پورے خاندان کو "اجتماعی سزا” (Collective Punishment) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماضی میں سامنے آنے والی رپورٹس، جیسا کہ حال ہی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ "Staged PC Final.pdf” میں بھی یہ دستاویزی ثبوت سامنے آئے ہیں کہ جب کوئی سیاسی یا حقوق کی آواز ریاست کے لیے چیلنج بنتی ہے، تو ان کے لاپتہ پیاروں کی رہائی کو مشروط کر کے یا خاندان کے دیگر مرد و خواتین کو اٹھا کر سیاسی سرگرمیاں ترک کرنے کا اسکرپٹڈ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ کے خاندان کا اغوا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ بی این ایم کی قیادت کو سیاسی پسپائی پر مجبور کیا جا سکے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنی مہم میں عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #StopBalochGenocide کا استعمال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 1948 سے اب تک بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل، منظم جبری گمشدگیاں اور انسانی حقوق کی پامالیاں اب ایک نسل کشی کی شکل اختیار کر چکی ہیں جس کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔
انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے بزرگ والدین اور سویلین خاندانوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے اور محمد بخش ساجدی، محمد رفیق بلوچ اور محمد نعیم ساجدی کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
