کراچی 11, جون شہید وطن کامریڈ حمید بلوچ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ حمیدساجنا


کراچی ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور کراچی ڈویژن کے صدر حمید ساجنا نے اپنے ایک بیان میں 11, جون یومِ شہادت شہید وطن کامریڈ حمید بلوچ کے سلسلے میں انہیں سُرخ سلام اور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج سے 45 سال پہلے جب بلوچ نوجوانوں کو ضیاء مارشل لاء کے دور میں مسقط کے آرمی میں بھرتی کر کے مظلوم ظفاری قوم کیخلاف قتل عام کی سازش اپنے عروج پر تھی اِس سازش کیخلاف بی ایس او کی جدوجہد جاری تھی اور اِس جدوجہد میں ایک ایسا موڑ آیا جب بی ایس او کے رہنماء شہید حمید بلوچ نے اِس سازش کیخلاف ایک ایسا عملی قدم اٹھایا جو اُس وقت حالات کی ضرورت تھی اِس پاداش میں شہید حمید بلوچ کو گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ چلا جس میں انہیں بلوچستان ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی جو اُس وقت کے فوجی جرنیلوں کو منظور نہیں تھا لہٰذا تمام تر قانونی آئینی اور انسانی تقاضوں کی پاؤں تلے روندھ کر حمید بلوچ کیخلاف دوبارہ فوجی عدالت میں ٹرائل ہوا جس کا فیصلہ خسبِ توقع سزائے موت کی صورت میں سنایا گیا ۔
اور جس پر تمام بلوچ قوم نے احتجاج کی مثالیں قائم کیں اپیلیں کی گئی مگر 11 , جون 1981 کا وہ سیاہ ترین دن طلوع ہوا جب ہمارے ساتھی بلوچوں کے خیر خواہ سرزمین بلوچستان کے فرزند اور بے گناہ نوجوان کامریڈ حمید بلوچ کو سینٹرل جیل میں تختہ دار پر پھانسی دے کر شہید کیا گیا اِس سانحہ کو 45 سال گزر گئے جنرل ضیاء کے ٹکڑے ہوئے جس جج نے فیصلہ دیا وہ فالج کا شکار ہو کر جہنم واصل ہوا ۔
لیکن شہدائے وطن کامریڈ حمید بلوچ ہمیشہ کیلئے امر ہو کر بلوچ قوم کا ہیرو اور سچا فرزند ثابت ہو کر ہماری سوچ ہماری فکر اور ہمارے نظریات میں داخل ہو گیا ۔
پھانسی سے قبل شہید کا وہ پیغام اور بلوچستان زندہ باد کا نعرہ آج بھی سینٹرل جیل مچھ اور بلوچستان میں گونج رہا ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post