پولیس کے حراست سردار فقیر کیسے ماراگیا ؟ شفاف تحقیقات کی جائے



کوئٹہ ( ویب ڈیسک )  سردار فقیر کے اہلخانہ نے جاری بیان میں کہاہے کہ فقیر  کو قلعہ سیف اللہ میں پولیس نے گرفتار کیا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سردار فقیر ایک اشتہاری ملزم تھا اور اس کے خلاف قتل سمیت کئی مقدمات درج تھے۔ تاہم یہاں اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جواب دینا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ سردار فقیر کو کوئٹہ کیوں منتقل نہیں کیا گیا؟ کیا کوئٹہ میں جیل موجود نہیں ہے؟ اسے قلعہ عبداللہ کیوں منتقل کیا گیا؟

دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جب سردار فقیر کو منتقل کیا گیا تو اس کے دشمنوں کو اطلاع کس نے دی؟ اس کی نقل و حرکت کی معلومات تو صرف پولیس اہلکاروں کے پاس تھیں۔ اس معاملے میں جبار رسالدار کا کردار بھی مشکوک بتایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ جبار رسالدار نے سردار فقیر کے دشمنوں سے ایک کروڑ روپے لے کر اسے فری ہینڈ دیا اور اس کے قتل میں کردار ادا کیا۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف قانون بلکہ انسانی اور اسلامی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں۔ کسی بھی شخص کو ماورائے عدالت قتل کرنا نہ قانونی ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات اس کی اجازت دیتی ہیں۔

لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
2. جبار رسالدار کو فوری طور پر شامل تفتیش کیا جائے۔
3. اگر کوئی اہلکار اس واقعے میں ملوث پایا جائے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
4. ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post