نوشکی میں ایک ہفتے کے دوران قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں کئی نوجوان جبری طور پر لاپتہ

 


نوشکی (نامہ نگار) اطلاعات کے مطابق قابض پاکستانی فورسز نے نوشکی کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مار کر 6 نوجوانوں کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

لاپتہ ہونے والے نوجوانوں میں ظفر اللہ ولد عمر شاہ شامل ہیں، جو قاضی آباد نوشکی کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں۔ ظفر اللہ کو 6 فروری 2026 کو شام 7:30 بجے گھر سے قابض پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

دوسرے نوجوان کی شناخت محمود ولد حاجی نور احمد کے نام سے ہوئی ہے، جو کلی بدل کاریز نوشکی کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے بے روزگار ہیں۔ محمود کو 6 فروری 2026 کو شام 10:00 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

تیسرے نوجوان عبدالحق ولد غلام نبی ہیں، جو کلی جمال آباد نوشکی کے رہائشی اور طالب علم ہیں۔ عبدالحق کو 11 فروری 2026 کو شام 4:30 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

چوتھے نوجوان کی شناخت کامران بلوچ ولد حاجی محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے، جو کلی جمال آباد کے رہائشی اور طالب علم ہیں۔ کامران بلوچ کو 11 فروری 2026 کو شام 4:30 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

پانچویں نوجوان شاہ زمان ولد عبداللہ ہیں، جو کلی جمال آباد نوشکی کے رہائشی اور طالب علم ہیں۔ شاہ زمان کو 12 فروری 2026 کو رات 3:00 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

چھٹے نوجوان نصیر احمد ولد عبداللہ ہیں، جو کلی جمال آباد نوشکی کے رہائشی اور طالب علم ہیں۔ نصیر احمد کو 12 فروری 2026 کو رات 3:00 بجے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نوشکی اور گرد و نواح میں فوجی جارحیت جاری ہیں۔ متعدد افراد کو قابض پاکستانی فورسز کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم بعض لاپتہ افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post