کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان کے علاقے سے مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہیں۔ تصاویر میں متعدد اہلکاروں کو دکھایا گیا ہے، تاہم اس واقعے کی سرکاری سطح پر تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
جاری کردہ بیان میں ایک مسلح تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اہلکار ان کی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کو جنگی قیدیوں کے تبادلے سے مشروط کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر زیر حراست اہلکاروں کے اہلخانہ کی ویڈیوز اور بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں انہوں نے انسانی بنیادوں پر اپنے رشتہ داروں کی فوری رہائی کی اپیل کی ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ معاملے کو انسانی ہمدردی کے تحت حل کیا جائے۔
تاحال حکام کی جانب سے اس صورتحال پر کوئی تفصیلی مؤقف جاری نہیں کیا گیا، جبکہ ذرائع کے مطابق معاملے کی نوعیت اور حقائق کے تعین کے لیے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
