ایران بارڈر کی بندش سرحدی علاقوں کے طلباء کا تعلیمی مستقبل داؤ پر والدین بے روزگار، بچوں کی تعلیم خطرے میں پڑگیا ہے۔عوامی حلقے

 


کوئٹہ (بلوچستان ٹوڈے)پنجگور، تربت، ماشکیل، واشک اور چاغی سمیت پاک۔ایران سرحد سے متصل علاقوں میں بارڈر کی حالیہ بندش نے ہزاروں طلباء و طالبات کو شدید متاثر کیا ہے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم یہ بچے اس وقت فیسوں کی ادائیگی کے بحران سے دوچار ہیں کیونکہ ان کے والدین کا روزگار براہِ راست بارڈر ٹریڈ پر منحصر ہے۔
سرحدی تجارت ان پسماندہ علاقوں میں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ والدین معمولی تجارت یا مزدوری کے ذریعے بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے تھے، مگر بارڈر بندش کے باعث ان کی آمدنی مکمل طور پر رک چکی ہے۔ نتیجتاً تعلیمی اخراجات پورے کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو سینکڑوں طلباء تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ کئی ذہین و قابل طلباء اعلیٰ تعلیم سے بھی محروم رہ جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ والدین شدید معاشی دباؤ اور ذہنی کرب کا شکار ہیں۔
تعلیمی ماہرین اور والدین نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات اٹھائے جائیں ان کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت کو بحال کیا جائے طلباء کے لیے ہنگامی تعلیمی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے فیس معافی اور وظائف اسکیمز متعارف کرائی جائیں۔
علاقہ مکینوں کا مؤقف ہے کہ یہ طلباء ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post