پاکستان تباہی کے دہانے پر ہے یہ بات ہر کوئی جانتاہے جس کی اصل وجہ اسے چلانے والے مڈل اور میٹرک پاس جنرل کرنل انکی بیویاں ہیں۔ جو پاکستان یعنی پنجاب سمیت اسکے قبضہ میں چلنے والے سندھ پختونخواہ اور بلوچستان وزیر اعظم سے لیکر درجہ چہارم کے ملازم ،بڑے سے بڑا کارخانہ ہو یا فٹ پاتھ پر سبزی بیچنے ولا ٹیلہ ،سرکاری تعلیمی ادارے ہوں یا جامعات، غرض مواصلاتی اداروں سے لیکر دیہی مرکز صحت ، اسٹیٹ پراپرٹی سے لیکر پٹواری لینڈ مافیا کے مگرمچھ ادارے،گلی میں پان گٹکا بیچنے والا ہو یا مافیا کا ڈون اور شعبہ جات فوج خفیہ اداروں کے کنٹرول میں ہوتے ہیں ، غرض ماچس کی ڈبیا سے شروع ہونے والے آمدن سے حاصل ہونے ولا منافع ہو یا کہیں جزیرہ خریدنا فوجی ملکیت ہی بن جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ کسی مائی کی لال میں طاقت نہیں ہے کوئی انکی آشیرباد بغیر ملک ریاض بن کر دکھائے ۔
سندھ پختونخواہ کے بحث کو ہم فلحال چھوڑ کر بلوچستان پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہر جگہ پاکستانی فوج ہی فوج ہے غرض فوج یہاں ڈائنوسار کی مانند پھیلا ہوا ہے، ہر جگہ خشکی پانی ہوا میں پائے جاتے ہیں ۔
کبھی وہ چار جماعت پاس قدوس سلیکٹ کرتے ہیں تو کبھی انگوٹھا چھاپ ثناء اللہ زہری جیسو ں کو وزیر اعلی بنادیتے ہیں۔ دوسری جانب ہائی ڈگری یافتہ امیر الملک جیسے تعلیم یافتہ مہرے بنادیتے ہیں ۔ جس پر میرے محسن دانشور منظور بلوچ کو دانستہ نادانستہ گلہ ہے کہ انکی دور سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ شروع ہے ۔ یہاں سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیسی دانائی ہے کہ ہم خود نادانی کا شکار ہوکر ان سے گلہ کر رہے ہیں جو ببانگ دھل معزرت کے ساتھ فوجی بوٹ چاٹ چاٹ کر وزیر اعظم، نگران وزیر اعظم،گورنر ، ،وزیر گزیر،سنیٹر،وکیل، جج،بیوروکریٹ ،جامعات کے چانسلرز،پروفیسرز ،حتی کہ سیاستدان سے لیکر چوکیدار تک بن جاتے ہیں۔
مندرجہ بالا مثالوں کا مطلب یہ ہے کہ پروفیسر منظور بلوچ نے گذشتہ روز جاری تربت تا اسلام آباد لانگ مارچ سیمینار میں تقریبا 14 منٹ کے خطاب میں بلوچ قوم پرست سیاستدانوں ( پیٹ پرستوں ) کو لتاڑا، اور مسنگ پرسنز بارے مالی بے ضابطگی کا انکشاف کیا وہ اپنی جگہ چلتے چلتے وہ یہ بھی کہتے کہ مسلح آزادی پسند بھی قوم کے چندہ پر پلتے ہیں تو بھی ٹھیک تھا ،اور یہ بھی کہتے ان میں بھی کچھ اقربا پروری کا شکار ہیں تو بھی سر آنکھوں ،آنکھوں سے اوپر ان کی باتوں کو سرپر جگہ تھی۔۔
مگر وہ اس بات کو جانتے ہوئے بھی کیوں انجان بن رہے ہیں کہ پارلیمنٹ پرست پیادے نہیں اور اصل مہرے قابض فوج اور خفیہ ادارے ہیں جنھوں نے بوٹ اور مکے سے سب کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔
آپ کیوں یہ کہنے کیلے تیار ہیں کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تو1971 سے جاری ہے۔اس وقت جو سب کو یاد ہے دلیپ کمار،اسد مینگل سمیت ہزاروں نہیں تو سینکڑوں فراد جن میں خواتین بچے شامل تھے پاکستانی فوج خفیہ اداروں نے لاپتہ کئے تھے۔اور جبری گمشدگیا بڑھ کر آج ہزاروں کی تعداد میں پہنچ چکی ہیں ۔ پنجاب کے ہسپتالوں کی چھتوں پر سینکڑوں نعشیں خشک کیے گئے تھے اور مزید کیے جارہے ہیں وہ بھی مسنگ پرسنز سندھی بلوچ اور پشتونوں کی ہی ہونگے ۔ جن کے قاتل بھی پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے اور انکے مقامی ڈیتھ اسکوئڈ ز ہیں ، جنھوں نے ماضی میں لاکھوں بنگالیوں کا خون بہایا تھا ۔
نہ صرف یہ بلکہ ہر اس چیز کے بربادی سمیت جامعہ بلوچستان کو فوجی چھاونی ( ہیرامندی ) بنانے کا ذمہدار بھی پاکستانی فوج اسکے چاپلوسی کرنے والے نام نہاد سیاستدان اور دانشور ہیں ۔
جناب منظور بلوچ ہم نہیں کہتے ہیں کہ آپ بندوق اٹھاکر پہاڑ پر جائیں یا غیر پارلیمانی سیاست کریں ۔ مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر نہ بنیں آپ ،کا حق ہے بلوچ چاہئے پارلیمانی سیاست کریں یا غیر پارلیمانی ، پر امن سیاست کرین یا مسلح ،یا فلاحی تنظیمیں اور تعلیمی ادارے ہوں ان پر ہم آپ سمیت ہر ایک مقرر لکھاری کو حق ہے وہ لکھیں و بات کریں ۔لیکن ساتھ ساتھ یہ نہ بھولیں کہ بلوچ قوم انتا بھی نا سمجھ نہیں جو یہ نہ سمجھے کہ فلاں مقرر پاکستانی قابض فوج اس کے ذیلی قاتل فورسز کو ذمہدار ٹھرانے بجائے شفشف کیوں کر رہاتھا اور سید ھے مدعے پر آکر شفتالو کیوں نہیں بول پار ہا تھا ۔
اگر شفتالو بولنے کی ہمت ہم اور آپ میں نہیں ہے تو آپ جیسے سینکڑوں پروفیسرز اور بھی موجود ہیں وہ کیوں کبھی کسی لانگ مارچ ،سیمینار،کانفرنس میں آکر خطاب نہیں کرتے ؟جس کا مطلب وہ جانتے ہیں کہ دشمن کے چہرہ سے نقاب نہیں ہٹا سکتے تو کیوں اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کرکے کسی اور مقرر کی حق تلفی کریں جو صباء دشتیاری جیسا جگر رکھتا ہے۔ جس کے دوچہرے نہیں، نہی خود غرض ہے۔وہ نام نہاد قوم پرست نہیں ،بلکہ وہ قوم پرست ہے جو مال اپنی جیب میں رکھنا اور کھانا حرام سمجھتا ہے۔
