بلوچستان کے علاقہ قلعہ سیف اللہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر دو خود کش حملوں کے علاوہ مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔
بتایا جارہاہے کہ دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکوں میں اڑا دیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات مسلم باغ میں مسلح افراد نے پاکستانی پیرا ملٹری فورسز فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ حملے کے وقت شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آواز سنی گئی جبکہ تاحال حملہ آور ہیدکوارٹر میں موجود ہیں تاہم حملہ آوروں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔اور نہی یہ معلوم ہواہے کہ کتنے اہلکار ھلاک ہوئے ہیں ۔
دوسری جانب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک جہاد پاکستان نامی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
تنظیم کے ترجمان ملا محمد قاسم نے مختصر بیان میں بتایا ہے کہ رات سے ہمارے فدائی ساتھی مسلم باغ بلوچستان کے فوجی کیمپ میں داخل ہوئے ہیں اور ابھی تک شدید جنگ چل رہی ہے۔
انہوں نے کہاہے کہ پاکستانی فوجی اہلکار کیمپ کی دیواریں بارود کے ذریعے توڑ کر بھاگ رہی ہے اور اب تک 40 فوجیوں کی نعشیں ہمارے ساتھیوں کے سامنے پڑی ہوئی ہیں۔
دریں اثناء جنوبی وزیرستان میں ڈرون کیمرہ تباہ کرنے کی ذمہداری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے ۔
ترجمان محمد خراسانی نے جاری بیان میں کہاہے کہ گزشتہ شب 4 بجے ولایت ڈی آئی خان،جنوبی وزیرستان کی تحصیل تیارزہ کے علاقے مدی جان میں تحریک طالبان پاکستان کے ساتھیوں نے ایک ڈرون کیمرہ( چھوٹا جاسوسی ڈرون) مار گرایا ہے ۔
