لاپتہ رشیدہ زہری اور رحیم زہری کے لواحقین کی جانب سے لسبیلہ پریس کلب حب کے سامنے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی

 


حب چوکی لاپتہ رشیدہ زہری اور رحیم زہری کے لواحقین کی جانب سے لسبیلہ پریس کلب حب کے سامنے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، پرامن احتجاج لسبیلہ پریس کلب سے  شروع ہو کر مین بازار حب سے ہوتے ہوئے واپس لسبیلہ پریس کلب حب کے سامنے پہہنچ کر دھرنا دیے دیا۔ اس موقع پر ریلی  میں کثیر تعداد میں  خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ 


 اس پرامن ریلی میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرگزی آرگنائزر شاہ زیب بلوچ، اے این پی کے ضلعی صدر لالا منان افغان، بی ایس او کے سابقہ چیئرمین عمران بلوچ، بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ حب زون کے صدر حمل بلوچ، انسانی حقوق کے کارکن عبداللّہ بلوچ، بی ایس او پجّار حب زون کے صدر عارف بلوچ اور نواز برفت اور دیگر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ 

 

 مقررین نے شرکاء سے خطاب کرکے رشیدہ بلوچ اور رحیم بلوچ کی جبری گمشدگی کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی فورسز نے اپنے ملکی آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 فروری کو شال  میں گشکوری ٹاؤن ناشناس قالونی سے  رحیم زہری ولد چاکر خان زہری کو انکے ایک سالہ بیٹی دعا زہری، چارسالہ بیٹا یحیٰ زہری، بیوی رشیدہ زہری اور والدہ بس خاتون کو مارائے عدالت گرفتار کرکے انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں حبس بے جا میں رہنے والی بس خاتون اور انکے نواسوں کو رہا کردیا مگر رشیدہ زہری اور رحیم زہری تاحال ریاستی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔


انھوں نے کہاکہ ریاستی فورسز اور انکے خفیہ اداروں کا تسلسل کے ساتھ بلوچ خواتین اور بچوں کو جبری گمشدگی نشانہ بنانا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔


 انہوں نے کہا کہ حالیہ فروری کے مہینے میں مختلف جگہوں میں مسخ شدہ نعشیں گرائی گئی ہیں اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس ملک کے اندر بلوچ، پشتون اور سندھی محفوظ نہیں ہیں ،  آئے روز ماورائے عدالت لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔


 مظاہرین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ  اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ملکی عدالت کو کوئی اہمیت نہیں ، جنکی حالیہ مثال حفیظ زہری کی ہے ، جنہیں عدالت میں باعزت رہائی کے بعد راستے میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے شدید تشدد کا نشانہ بناکر دوبارہ لاپتہ کرنے کی کوشش کی ،جس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ملک میں عدلیہ کا کوئی رول نہیں۔ 


اس طرح لاپتہ افراد کے معاملے پر کمیشن بنائی گئی ، لیکن یہ نام نہاد کمیشن اور انسانی حقوق کے ادارے بلوچستان میں ماورائے عدالت جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بے بس ہیں۔ 


انھوں نے  حکومت وقت، عالمی انسانی حقوق کے  اداروں سے لاپتہ رشیدہ بلوچ اور رحیم بلوچ کی باحفاظت بازیابی کیلئے اہم کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post