کراچی جبری لاپتہ افراد و کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4953 دن ہو گئے



کراچی جبری لاپتہ افراد و کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4953 دن ہو گئے ، نیشنل پارٹی کے مرکزی عہدیداران تاج محمد کاکڑ ، رحمت الًلہ کاکڑ ، امیر محمد کاکڑ نے کیمپ آ کر اظہار یکجہتی کی، وی۔بی۔ایم۔پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے نہ صرف طوالت اختیار کر رہا ہے بلکہ ہر آنے والے دن میں انکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلوچستان میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں بلوچ فرزندوں کے جبری اغواء اور انہیں لاپتہ کرنے کا سلسلہ باقاعدہ فوجی آپریشن سے شروع ہوا ، ابتدا میں جبری اغواء نما گرفتاریوں کا سلسلہ خفیہ حراست رہا مگر بلوچ پر امن جدوجہد میں آنے والی شدت اور بلوچ نوجوانوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں افراد کی جدوجہد سے گہری وابستگی نے پاکستانی حکمرانوں کی جارحیت اور سفاکانہ پالیسیوں کو مزید وحشیانہ بنا دیا ہے ، وحشت کا مظاہرہ  فورسسز ، و خفیہ اداروں کے   ہاتھوں ماورائے عدالت جبری  لاپتہ کرنا بلوچوں کی زندہ سلامت بازیابی کی امیدوں کو وسوسوں، خدشات ، اور بےیقینی میں بدل دیا جس سے پیاروں کی ایک جھلک دیکھئے کے لئے بےتاب لواحقین کی ناقابل بیان کرب میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اس سلسلے جبری لاپتہ بلوچوں کے لواحقین سمیت بلوچ سیاسی ، سماجی حلقوں کی طرف سے پاکستانی مقتدرہ قوتوں ، قانون ، انصاف کے اداروں نے بلوچ قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے نمک پاشی کی گئی ، سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو ہر سطح پر آگاہ کرتے ہوئے انصاف مانگا گیا مگر ہر طرف سے طفل تسلیوں اور ٹال مٹول سے کام لیا گیا.

Post a Comment

Previous Post Next Post