بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہرنائی اور زیارت کے علاقوں میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں کو شہید کرنے کا پاکستانی دعویٰ محض فوج کا ایک پروپگنڈہ حربہ ہے، جسکا مقصد بلوچستان میں اپنی ناکامیوں اور شکست کو چھپانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زیارت میں اپنا مخصوص آپریشن مکمل کرکے بی ایل اے کی اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ ( ایس ٹی او ایس) کے تمام سرمچار ساتھی آسانی کے ساتھ مذکورہ علاقے سے نکل کر اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ اس پورے آپریشن میں ہمارا ایک بھی ساتھ زخمی تک نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے علاقے میں ہزاروں فوجی، درجنوں ہیلی کاپٹر و ڈرون تعینات کرنے کے باوجود، دشمن فوج بی ایل اے سرمچاروں کو روکنے میں ناکام رہی، بلوچ سرمچار کامیابی کے ساتھ اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد آسانی سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اپنی اس ناکامی کو چھپانے کیلئے پاکستانی فوج نے ممکنہ طور پر جبری گمشدگی کے شکار بلوچوں کو شہید کرکے انہیں بلوچ سرمچار ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی قومی جدوجہد آزادی اور اس جدوجہد کے دوران ساتھیوں کی شہادت پر فخر کرتا ہے۔ شہادت ہمارا نصب العین ہے۔ جب بھی ہمارا کوئی سرمچار شہید ہوتا ہے، تو تنظیم فخریہ طور پر اسکا اعلان کرتا ہے اور شہید کو فوجی اعزاز کے ساتھ شان و شوکت سے خراج تحسین پیش کرکے رخصت کی جاتی ہے۔ اگر ہمارا کوئی بھی ساتھی مذکورہ آپریشن میں شہید ہوتا تو ہم فخریہ اسے قبول کرتے۔
ترجمان نے مزید کہاکہ کرنل لئیق کی گرفتاری اور بلوچ قومی عدالت میں پیشی اور سزا، بلوچ لبریشن آرمی کی پیشہ ورانہ مہارت کا اظہار ہے۔ آنے والے دنوں میں بی ایل اے اپنے اس طرز کے آپریشنوں میں مزید تیزی لائے گی۔
جیئند بلوچ نے کہا کہ اس بیان کے توسط سے بلوچ لبریشن آرمی اہل پنجاب کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اپنے بچوں کو کچھ انا پرست لالچی جنرلوں کے لگائے گئے اس آگ کا ایندھن بننے سے روکیں۔ بلوچستان بلوچوں کی ملکیت اور تاریخی سرزمین ہے، بلوچ ہر صورت اپنی آزادی لیکر ہی رہینگے۔ بلوچستان میں شکست پاکستانی ریاست اور پاکستانی فوج کا مقدر ہے۔ اب اسکا انحصار اہل پنجاب پر ہے کہ وہ روزانہ بلوچستان سے اپنے بچوں کی لاشیں وصول کرنا چاہتے ہیں یا وہ اپنی فوج پر دباو ڈالتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے پر امن طریقے سے انخلا کریں۔
